Read in English  
       
Food Safety

حیدرآباد ۔ شہر میں مضر صحت ادرک لہسن پیسٹ تیار کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے حکام نے بھاری مقدار میں ملاوٹی سامان ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی کاٹے دھن کے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ پر چھاپے کے دوران انجام دی گئی۔ مزید برآں، اس آپریشن نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 4032 کلوگرام ادرک لہسن پیسٹ ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ 6200 کلوگرام سے زائد ناقص معیار کے خام مال اور دیگر اشیاء بھی برآمد کی گئیں جن کی مالیت تقریباً 22 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ تاہم، یہ تمام مصنوعات مختلف بازاروں میں سپلائی کی جا رہی تھیں۔

کارروائی کی تفصیل اور برآمدگی | Food Safety

ٹاسک فورس خیرت آباد ٹیموں نے ایچ فاسٹ یونٹ کے ساتھ مل کر یہ کارروائی انجام دی۔ بعد ازاں میلاردیو پلی کے آئی ڈی اے علاقے میں واقع یونٹ کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید یہ کہ حکام نے موقع پر موجود تمام اشیاء کو ضبط کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

معائنہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کارکنان انتہائی غیر صحت بخش حالات میں پیسٹ تیار کر رہے تھے۔ وہ لہسن کے چھلکے اور دیگر غیر معیاری مواد استعمال کر رہے تھے جبکہ ایسیٹک ایسڈ اور زینتھن گم جیسے کیمیائی مادے بھی شامل کیے جا رہے تھے۔ لہٰذا یہ مصنوعات انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دی گئی ہیں۔

سپلائی نیٹ ورک اور تفتیش | Food Safety

حکام نے بتایا کہ تیار شدہ پیسٹ کو کھلے برتنوں میں رکھا جاتا تھا جہاں دھول اور مکھیوں کا اثر موجود تھا۔ مزید برآں، بغیر کسی فوڈ سیفٹی سرٹیفیکیشن کے اسے پیک کر کے بازار میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اس صورتحال نے نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ ملاوٹی پیسٹ تھوک دکانوں، ریسٹورنٹس اور کیٹرنگ سروسز کو فراہم کیا جا رہا تھا۔ لہٰذا حکام نے اس پورے سپلائی نیٹ ورک کو ٹریس کرنے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آخر میں ضبط شدہ سامان اور ملزم کو میلاردیو پلی پولیس کے حوالے کر دیا گیا تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔