Read in English  
       
Political Nexus

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر بنڈی سنجے نے ریاستی سیاست میں ایک نئے تنازع کو جنم دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور کے سی آر کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے اور اس پر وضاحت ضروری ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان کوئی اتحاد موجود ہے۔

یہ بیان انہوں نے کریم نگر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا، جہاں انہوں نے کانگریس قیادت پر سیاسی فائدے کے لیے غلط بیانی پھیلانے کا الزام لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اعلیٰ کو ذمہ داری کے ساتھ بات کرنی چاہیے اور بغیر تصدیق کے الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔

سیاسی تنازع اور الزامات کی شدت | Political Nexus

بنڈی سنجے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے ہمیشہ بی آر ایس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے، جبکہ کانگریس کا رویہ کمزور رہا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ موجودہ الزامات دراصل عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہیں۔ اسی دوران، انہوں نے سیاسی ماحول میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کالیشورم منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے سابق حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کے سی آر کے خاندان کے خلاف مختلف معاملات میں اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

تحقیقات، تاخیر اور حکومتی موقف | Political Nexus

انہوں نے آئی پی ایس افسر اکون سبھروال کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی موجودہ حیثیت پر وضاحت طلب کی۔ مزید برآں، انہوں نے منشیات، فون ٹیپنگ اور آبپاشی منصوبوں سے متعلق معاملات میں کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے۔ لہٰذا، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان معاملات میں تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

بنڈی سنجے نے الزام لگایا کہ مخصوص معاملات میں خاموشی اور منتخب کارروائی سیاسی مفاہمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ عوام خود فیصلہ کریں گے کہ بی جے پی کی جدوجہد حقیقی ہے یا پس پردہ کوئی سمجھوتہ موجود ہے۔

آخر میں، انہوں نے زور دیا کہ شفاف حکمرانی اور جوابدہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کئی سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔