Read in English  
       
Tax Fraud

حیدرآباد: تلنگانہ کامرشیل ٹیکس محکمہ نے حیدرآباد کی کشان انڈسٹریز ایل ایل پی نامی کمپنی کے ذریعے کیے گئے 100 کروڑ روپئے کے Tax Fraudکا انکشاف کیا ہے، جسے حکام نے بغیر مال کی نقل و حرکت کے جعلی انوائسز کے ذریعے کیا گیا اپنی نوعیت کا پہلا بڑا اسکینڈل قرار دیا ہے۔

ایس پی روڈ پر واقع کمپنی کے دفتر، سکندرآباد کے گوڈاؤن، اور کلاکل آٹوموٹیو پارک و موپریڈی پلی دیہات میں موجود فیکٹریوں پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ ان تحقیقات میں پتہ چلا کہ کمپنی نے بڑی تعداد میں ایسے انوائس تیار کیے جن میں تانبے (کاپر) کی فراہمی دکھائی گئی، لیکن حقیقت میں کوئی مال منتقل ہی نہیں ہوا۔

پریلیمینری جانچ سے معلوم ہوا کہ مہاراشٹرا کے لیے جن ٹرکوں کو مال لے جاتے ہوئے دکھایا گیا، وہ دراصل خالی تھے۔ کمپنی کی جانب سے درج کردہ ای وے بلز اور ٹرانسپورٹ ریکارڈز میں مال برداری ظاہر کی گئی، لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے ٹول گیٹ ریکارڈز اور GPS ٹریکنگ نے اصل حقیقت بے نقاب کر دی۔

افسران کے مطابق جعلی انوائسز کی مالیت 100 کروڑ روپئے سے تجاوز کر چکی ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ کشان انڈسٹریز نے 33.2 کروڑ روپئے کا جعلی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کلیم کر کے اپنے جی ایس ٹی واجبات کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا، حالانکہ یہ ساری لین دین صرف کاغذوں میں موجود تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم تلنگانہ میں ٹیکس فراڈ کی ایک نئی شکل کو ظاہر کرتی ہے، جہاں تکنیکی چالاکیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔

چھاپوں کے دوران اکاؤنٹ بکس، ہارڈ ڈرائیوز، اور سی سی ٹی وی فوٹیج ضبط کی گئی۔ سنٹرل کرائم اسٹیشن میں کمپنی کے ڈائریکٹرز وکاش کمار کشان اور رجنیش کشان کے خلاف رسمی شکایت درج کی گئی ہے۔

مزید حیران کن انکشاف یہ ہوا کہ ایک ساکت ٹرک جس کا نمبر AP29TA7213 ہے، جون سے اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں، مگر اس کا نمبر متعدد ای وے بلز میں شامل کر کے اسے ریاستی سرحدوں کے پار نقل و حمل کرتا ہوا دکھایا گیا۔

محکمہ مہدی پٹنم-1 کے ڈپٹی اسسٹنٹ ٹیکس آفیسر (DSTO) ماجد حسین نے اس گھپلے کی نشاندہی کرتے ہوئے سی جی ایس ٹی ایکٹ اور بی این ایس دفعات 318 اور 336 کے تحت مجرمانہ کارروائی کے لیے علیحدہ شکایت بھی درج کی ہے۔

کمرشل ٹیکس کمشنر کے. ہریتا، آئی اے ایس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی ہدایت پر ریاست بھر میں ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔