Read in English  
       
Political Intimidation

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی بی آر ایس قائدین کے خلاف دھمکی آمیز ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا سیاسی دباؤ نہ پہلے کامیاب ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔

تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے آئینی اقدار اور قانونی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق فون ٹیپنگ معاملے میں ٹی ہریش راؤ کو نوٹس جاری کرنا اس کے باوجود کیا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ پہلے ہی شواہد کی کمی پر ایسے معاملات کو مسترد کر چکی ہیں۔

سنگارینی انکشافات اور سیاسی ردعمل | Political Intimidation

کے ٹی راماراؤ نے الزام لگایا کہ فون ٹیپنگ کیس کو دوبارہ زندہ کرنا دراصل سنگارینی کے ٹینڈرز میں بے ضابطگیوں کے انکشافات کا ردعمل ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ کے برادر نسبتی سروجَن ریڈی کا نام سامنے آنے کے بعد سیاسی انتقام کی کارروائیاں تیز ہو گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نو ٹینڈرز میں متنازعہ سائٹ وزٹ شرط شامل کر کے ایک ہی کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔

عدلیہ پر اعتماد اور واپسی کا دعویٰ | Political Intimidation

بی آر ایس رہنما نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نینی کول بلاک ٹینڈر کی منسوخی کے باوجود دیگر معاہدوں میں بے قاعدگیاں جاری رہیں۔ ان کے مطابق کانگریس حکومت میڈیا کے ذریعے گمراہ کن بیانیہ پھیلا رہی ہے۔

کے ٹی راماراؤ نے واضح کیا کہ بی آر ایس عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور جھوٹے مقدمات کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی سربراہی میں عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا۔

اختتام پر انہوں نے وزیر اعلیٰ اور ان پولیس افسران کو خبردار کیا جو سیاسی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آر ایس دو برس کے اندر اقتدار میں واپس آئے گی اور جھوٹے الزامات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔