Read in English  
       
Phone Tapping SIT

حیدرآباد: فون ٹیپنگ کیس میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے منگل کے روز سابق اسپیشل انٹیلی جنس بیورو چیف پربھاکر راؤ سے پانچویں دن بھی تحویل میں پوچھ گچھ جاری رکھی۔ یہ جانچ ریاست میں زیرِ بحث حساس معاملے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

تحقیقات کے دوران ایس آئی ٹی افسران کو معلوم ہوا کہ اپنے عہدے کے دوران پربھاکر راؤ ایک موبائل فون استعمال کر رہے تھے۔ یہ فون رواں سال اپریل میں حیدرآباد میں ان کی رہائش گاہ پر فارمیٹ کیا گیا۔ تاہم حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت پربھاکر راؤ امریکہ میں موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں فون فارمیٹ ہونے کے وقت اور مقام کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس انکشاف کے بعد جانچ مزید گہری کر دی گئی ہے۔

فارمیٹ کیے گئے فون کی جانچ | Phone Tapping SIT

ایس آئی ٹی اب اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ موبائل فون کس نے فارمیٹ کیا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔ افسران یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ اس مدت کے دوران رہائش گاہ پر کون کون موجود تھا اور کس نے اس عمل میں مدد فراہم کی۔

تحقیقاتی ٹیم یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ فون فارمیٹ کرنے کی ہدایت کس کے حکم پر دی گئی۔ پربھاکر راؤ سے واٹس ایپ کال ریکارڈز، چیٹ لاگز اور آئی پی ایڈریس ڈیٹا کی بنیاد پر سوالات کیے گئے، تاہم ذرائع کے مطابق وہ واضح جوابات دینے میں ناکام رہے۔

ڈیٹا حذف کیے جانے کے شواہد | Phone Tapping SIT

حکام کے مطابق پربھاکر راؤ 10 مارچ 2024 کو پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہونے کے بعد امریکہ روانہ ہوئے تھے۔ ایس آئی ٹی اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ اسی دوران موبائل فونز، کلاؤڈ اسٹوریج اور ایک لیپ ٹاپ سے ڈیٹا کیوں حذف کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں جو سابقہ حکومت کے دور میں فون ٹیپنگ کے احکامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایس آئی ٹی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس عمل کی منظوری کس نے دی تھی اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔