Read in English  
       
Political Apology

حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک بار پھر تلخی بڑھ گئی ہے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سرکاری ترجمان بنڈی سدھاکر گوڑ نے بدھ کے روز مطالبہ کیا کہ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ، کانگریس رہنما راہول گاندھی اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے غیر مشروط معافی مانگیں، بصورت دیگر کانگریس کارکن ان کی عوامی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالیں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے بنڈی سدھاکر گوڑ نے کے ٹی راما راؤ کے بیانات کو غیر شائستہ، غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کی سیاسی گراوٹ سے مایوس ہو کر ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سونیا گاندھی نے تلنگانہ نہ دیا ہوتا تو آج ان کے خاندان کی حیثیت کیا ہوتی، یہ ایک اہم سوال ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے 2014 میں تلنگانہ کو سرپلس بجٹ کے ساتھ حوالے کیا تھا، لیکن اس کے بعد بی آر ایس کے دس سالہ دورِ حکومت میں شدید مالی بدانتظامی ہوئی۔ ان کے مطابق کے سی آر کے خاندان نے ریاستی وسائل کو نقصان پہنچایا اور ریاست کو بھاری قرض میں دھکیل دیا۔

مالی اور سیاسی الزامات | Political Apology

بنڈی سدھاکر گوڑ نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت بی آر ایس کے دور میں واجب الادا 60 ہزار کروڑ روپے کے ٹھیکہ دار بل ادا کر رہی ہے، جس سے سابق حکومت کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس تلنگانہ تحریک کے بنیادی وعدے، یعنی فنڈز، پانی اور نوکریاں فراہم کرنے میں ناکام رہی، جبکہ کانگریس اب ان وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کرشنا دریا کے پانی کے معاملے پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے بحث سے راہِ فرار اختیار کی۔ ان کے مطابق اگر بی آر ایس میں ہمت ہوتی تو اسمبلی میں رہ کر سوالات کا سامنا کرتی، مگر اس کے بجائے بائیکاٹ کو ترجیح دی گئی۔

اندرونی اختلافات اور وارننگ | Political Apology

انہوں نے بی آر ایس کے اندرونی اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کے کویتا کے حالیہ الزامات کا ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ جب خود خاندان کے اندر سے بدعنوانی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو قیادت خاموش کیوں ہے۔ انہوں نے کے ٹی راما راؤ کو عوامی طور پر جواب دینے کا چیلنج بھی دیا۔

آخر میں بنڈی سدھاکر گوڑ نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ کے ٹی راما راؤ کو راہول گاندھی اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے معافی مانگنی ہوگی، ورنہ کانگریس ہر جگہ ان کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔