Read in English  
       
Governance Failure

حیدرآباد: سابق وزیر اور رکنِ اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں حکمرانی شدید انتشار کا شکار ہے اور کسانوں، طلبہ اور مقامی اداروں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے فیصلے آدھے ادھورے اور مجموعی طور پر افراتفری کی عکاسی کرتے ہیں۔

نرساپور میں بی آر ایس کی حمایت یافتہ سرپنچوں کی تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اقتدار میں ہونے کے باوجود حکمران جماعت حالیہ سرپنچ انتخابات میں واضح مینڈیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق زمینی سطح پر عوامی ناراضگی صاف دکھائی دیتی ہے۔

انتخابی دعوے | Governance Failure

ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے خود ریاست بھر میں انتخابی مہم چلائی، لیکن اس کے باوجود کانگریس سے وابستہ صرف تقریباً 6,000 سرپنچ ہی کامیاب ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ حکومت چلانے کے بجائے ہر وقت بھارت راشٹرا سمیتی پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کانگریس حکومت کے اعتماد کو چیلنج کرتے ہوئے ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات فوری طور پر کرانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی پارٹی کارکنوں سے کہا کہ عوام کو ہراساں کرنے والے افسران کے نام نوٹ کر لیں، کیونکہ ان کے بقول بی آر ایس دو برس کے اندر اقتدار میں واپس آ کر قانونی طریقے سے شکایات کا ازالہ کرے گی۔

کسان اور بجلی | Governance Failure

فلاحی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ رعیتو بھروسہ اور راجیو یووا وکاسَم پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ کلیان لکشمی کے تحت 900 کروڑ روپئے اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 9,000 کروڑ روپئے بقایا ہیں، جس سے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سماجی انصاف کے معاملے پر انہوں نے الزام عائد کیا کہ درج فہرست قبائل کو وزیر کی نمائندگی نہ دے کر کانگریس نے ان کے ساتھ ناانصافی کی۔ وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی عوامی فلاح کے بجائے ’بیوٹی کانٹیسٹ ‘اور فٹبال میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

بجلی کے مسئلے پر سابق وزیر نے اسمبلی میں بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے بجلی کے دعووں کے باوجود کسانوں کو صرف 12 سے 14 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کسانوں کی درخواست پر کاگَز مدور اور ریڈی پلی سب اسٹیشنوں کا دورہ کیا، جہاں بجلی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور افسران سے جواب طلب کیا۔

بعد ازاں انہوں نے حلقے سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس حمایت یافتہ سرپنچوں، ڈپٹی سرپنچوں اور وارڈ ممبران کو تہنیت پیش کی۔ اس موقع پر نرساپور کی رکنِ اسمبلی سنیتا لکشما ریڈی، سنگاریڈی کے رکنِ اسمبلی چنتا پربھاکر اور بی آر ایس کے کئی سینئر قائدین موجود تھے۔