Read in English  
       
Education Budget

حیدرآباد ۔ ریاست تلنگانہ میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ تلنگانہ سیو ایجوکیشن کمیٹی نے حکومت سے کل بجٹ کا کم از کم 15فیصد تعلیم کے لیے مختص کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم موجودہ 8.2فیصد مختص رقم کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں کمیٹی نے حکومت پر عوامی توقعات اور اپنے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو تعلیمی شعبہ ریاستی ترقی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ بجٹ اعداد و شمار نے پالیسی اور عمل کے درمیان واضح فرق کو بے نقاب کیا ہے۔ اسی دوران ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بجٹ کی کمی نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی بلکہ طلبہ کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

کمیٹی کے قائدین پروفیسر کے چکرادھر راؤ، پروفیسر جی ہراگوپال اور پروفیسر کے لکشمی نارائنا نے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور لیکچررز کی تنظیمیں مسلسل کم از کم 20فیصد بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے نہ صرف اس مطالبے کو نظرانداز کیا گیا بلکہ 15فیصد کے وعدے تک کو پورا نہیں کیا گیا، جس سے حکومتی سنجیدگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Education Budget | اسکولی شعبہ میں خلا

کمیٹی کے مطابق تعلیمی شعبہ میں بنیادی مسائل اس مطالبے کو مزید اہم بناتے ہیں۔ حکومت نے 2,500 اسکولوں میں پری پرائمری تعلیم کے فروغ کا اعلان تو کیا، تاہم اس کے لیے کوئی مالی مختص نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی شدید قلت اور تربیتی پروگراموں کا فقدان نمایاں مسائل ہیں۔

مزید برآں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسائل محض وسائل کی کمی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی ناکامی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ صورتحال تعلیمی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے۔

Education Budget | جامعات کی مالی مشکلات

اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک بتائی گئی ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مختلف جامعات کو دی جانے والی رقوم ان کی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہیں۔ کاکتیہ یونیورسٹی کو 40 کروڑ روپے جبکہ مہاتما گاندھی اور پالمورو یونیورسٹی کو 35 کروڑ روپے فی کس فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ تلنگانہ یونیورسٹی کو 125 کروڑ روپے دیے گئے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محدود فنڈنگ ان اداروں کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مزید یہ کہ تحقیقی سرگرمیوں اور تدریسی معیار پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق 2024-25 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص 617 کروڑ روپے میں سے صرف 46 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جو کہ 7فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔ لہٰذا یہ صورتحال مالی نظم و نسق اور پالیسی نفاذ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

آخر میں کمیٹی نے اسمبلی میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کے لیے کم از کم 15فیصد بجٹ مختص کیا جائے تاکہ سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ نتیجتاً ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ سرمایہ کاری ہی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بنیادی مسائل حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔