Read in English  
       
Chinese Manja

حیدرآباد: تلنگانہ میں ممنوعہ چینی مانجھا ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوا، جہاں پیر کے روز پانچ سالہ بچی کی گردن کٹنے سے موقع پر ہی موت ہو گئی۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کوکٹ پلی کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب بچی اپنے والد اور بہن کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہی تھی۔ نتیجتاً شہر میں ایک بار پھر اس خطرناک ڈور کے استعمال پر تشویش بڑھ گئی۔

پس منظر کے مطابق بچی اپنے والد کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جبکہ بہن پیچھے سوار تھی۔ جیسے ہی موٹر سائیکل میڑچل ملکاجگیری ضلع کے قاضی پلی سے کوکٹ پلی کی جانب بڑھ رہی تھی، ایک اڑتی ہوئی پتنگ کی نائیلون ڈور اچانک بچی کی گردن میں لپٹ گئی۔ اس تیز دھار مانجھا نے گہرا زخم لگایا اور شدید خون بہنے کے باعث بچی موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

دو ہفتوں میں دوسرا جان لیوا واقعہ | Chinese Manja

پولیس کے مطابق یہ واقعہ ریاست میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چینی مانجھا سے ہونے والی دوسری ہلاکت ہے۔ اس سے قبل 14 جنوری کو سنگاریڈی ضلع میں اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ مزدور کی اسی طرح موت ہو گئی تھی۔ وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا کہ مانجھا گردن میں کس گیا اور مہلک ثابت ہوا۔

اسی دوران پولیس اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مہینے حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں درجن سے زائد افراد چینی مانجھا سے زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور 70 سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ محض چند واقعات تک محدود نہیں رہا۔

پابندی کے باوجود استعمال، پولیس کارروائی | Chinese Manja

اگرچہ چینی مانجھا پر مکمل پابندی عائد ہے، تاہم سنکرانتی تہوار کے دوران اس کا کھلے عام استعمال جاری رہا۔ اسی وجہ سے حیدرآباد پولیس نے فروخت، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے خلاف خصوصی مہم شروع کی۔ نتیجتاً 8 جنوری سے 11 جنوری کے درمیان 2,150 بوبنز ضبط کیے گئے جن کی مالیت 43 لاکھ روپئے بتائی گئی۔

پولیس نے اس دوران 29 مقدمات درج کیے اور 57 افراد کو گرفتار کیا۔ مزید برآں گزشتہ ایک ماہ میں مجموعی طور پر 132 مقدمات درج ہوئے، 8,376 بوبنز ضبط کیے گئے جن کی قیمت 1.68 کروڑ روپئے ہے، جبکہ 200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ آخرکار پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس جان لیوا مانجھا سے مکمل پرہیز کریں تاکہ قیمتی جانیں محفوظ رہ سکیں۔