Read in English  
       
Chevella Tragedy

حیدرآباد: رنگا ریڈی ضلع میں پیش آئے چیوڑلہ بس حادثے نے 19 خاندانوں کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا۔ تانڈور سرکاری اسپتال، جہاں پوسٹ مارٹم کیے جا رہے تھے، سوگوار آوازوں سے گونج اٹھا۔ لواحقین اور دوست احباب اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر بین کرتے نظر آئے۔

اسپتال کا ماحول انتہائی دردناک ہو گیا۔ رشتہ داروں اور رضاکاروں کی تسلی کے باوجود متاثرہ خاندانوں کے آنسو نہیں رکے۔ ہر شخص کی آنکھیں اشکبار تھیں، اور دکھ کی شدت نے وہاں موجود سب کو مغموم کر دیا۔

تین بہنوں کی المناک موت پر والدین کا صدمہ – Chevella Tragedy

جاں بحق افراد میں تین بہنیں — تنوشا، سائی پریا اور نندنی — بھی شامل تھیں۔ ان کے والدین شدید غم میں نڈھال ہو گئے۔ روتی ہوئی ماں نے کہا، “میری بیٹیاں اب کبھی واپس نہیں آئیں گی۔”

انہوں نے بتایا کہ بچیاں پچھلے ہفتے ایک خاندانی شادی کے لیے گھر آئی تھیں اور ان کے کہنے پر چند دن مزید رک گئی تھیں۔ وہ صبح امتحان کے لیے روانہ ہوئیں اور پھر کبھی واپس نہ آئیں۔

ماں نے الزام لگایا کہ ٹپر لاری کا ڈرائیور نشے میں تھا اور لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا، جس سے حادثہ پیش آیا۔ “میرے پانچ بچے تھے، چار لڑکیاں اور ایک لڑکا، اب صرف دو بچے رہ گئے ہیں،” اس نے روتے ہوئے کہا۔

والدین نے بتایا کہ تینوں بیٹیاں حیدرآباد میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور پورا خاندان ان کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔

اسپتال میں غم کے سائے اور آخری دیدار – Chevella Tragedy

ماں غم کی شدت سے کچھ دیر بعد بے ہوش ہو گئی، جس پر رشتہ داروں نے پانی پلا کر اسے سنبھالا۔ اسپتال کے عملے نے پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دیں۔

پورے اسپتال میں کہرام مچ گیا، اور ہر چہرے پر دکھ اور بے بسی کے آثار نمایاں تھے۔ یہ منظر اس سانحے کی سنگینی کو بیان کر رہا تھا، جس نے درجنوں گھروں سے خوشیاں چھین لیں۔