Read in English  
       
Extortion Racket

حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے چارمینار علاقے میں پولیس نے ایک منظم جبراً وصولی گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایک مفرور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ٹھیلہ بنڈی والے نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس کارروائی نے مقامی کاروباری افراد میں پھیلے خوف کو اجاگر کر دیا ہے۔

پس منظر کے مطابق چارمینار پولیس نے ڈی سی پی چارمینار زون کی نگرانی میں کارروائی کرتے ہوئے 24 مارچ 2026 کو 44 سالہ اظہر خان کو ایک گنے کے جوس کے اسٹال کے قریب گرفتار کیا۔ مزید برآں، پولیس نے اس گینگ کے دیگر ارکان کی تلاش بھی تیز کر دی ہے۔ نتیجتاً، اس نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان ٹھیلہ بنڈی والوں کو روزانہ کی بنیاد پر “معمول” ادا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ ابتدا میں یہ رقم 500 روپے یومیہ تھی، تاہم بعد میں اسے بڑھا کر 1000 روپے کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ملزمان دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے دکانداروں کو خوفزدہ کرتے تھے۔

ٹھیلہ بنڈی والوں کو نشانہ بنانے کا انکشاف| Extortion Racket

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے کئی مواقع پر چاقو کا استعمال کرتے ہوئے ٹھیلہ بنڈی والوں کو اپنی جگہ خالی کرنے پر مجبور کیا۔ مزید یہ کہ وہ مسلسل دباؤ ڈال کر غیر قانونی رقم وصول کرتے رہے۔ تاہم، پولیس کی بروقت کارروائی نے اس سلسلے کو بے نقاب کر دیا۔

دوران تفتیش اظہر خان نے اعتراف کیا کہ وہ الناصرالدین المعروف گنا نصیر اور محمد اذان قادری المعروف توفیق کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے بتایا کہ الناصرالدین بھوانی نگر پولیس اسٹیشن کا ایک راؤڈی شیٹر ہے جس کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ نتیجتاً اس کیس نے ایک منظم مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے۔

قانونی کارروائی اور مزید تلاش| Extortion Racket

حکام کے مطابق اس کیس میں ایک اور ملزم کو پہلے ہی گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیجا جا چکا ہے۔ مزید برآں، گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اسی دوران پولیس نے باقی مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش تیز کر دی ہے۔

یہ مقدمہ کرائم نمبر 49/2026 کے تحت متعلقہ دفعات میں درج کیا گیا ہے۔ لہٰذا، پولیس اس گینگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ حکام نے شہریوں اور ٹھیلہ بنڈی والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی مطالبے کے سامنے نہ جھکیں اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف قانون کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے بلکہ چھوٹے کاروباری افراد کے تحفظ کے لیے بھی اہم قدم ہے۔