Read in English  
       
Cultural Tribute

حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا ملو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے شاعر آندے سری کو ’جیا جیاہے تلنگانہ‘ گیت کے ذریعے ریاست کو متحد کرنے پر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے شاعر کے ایک اہلِ خانہ کے لیے سرکاری ملازمت کی منظوری دی ہے۔

قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آندے سری کا اصل نام آندے ایلّیا تھا اور ان کا تعلق ضلع سدی پیٹ کے رے پرتی گاؤں سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری میں والدین کے انتقال کے بعد وہ مویشی چرانے پر مجبور ہوئے، مگر مشکلات کے باوجود ایک طاقتور شاعر اور نغمہ نگار کے طور پر ابھرے۔

تلنگانہ کی ثقافتی آواز | Cultural Tribute

بھٹی وکرامارکا کے مطابق آندے سری نے تقریباً 3,000 نظمیں تحریر کیں، جن میں دیہی زندگی اور پسماندہ طبقات کی جدوجہد کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تخلیقات تلنگانہ تحریک کی امنگوں اور عوامی احساسات کی نمائندہ رہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’جیا جیاہے تلنگانہ‘ گیت نے تحریک کے دوران فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی آندے سری کی نظموں اور گیتوں نے مزدوروں، کسانوں اور محروم طبقات کی آواز کو قوت دی۔

سرکاری اعتراف اور خاندان کی مدد | Cultural Tribute

نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے اس گیت کو ریاستی ترانہ قرار دیتے ہوئے جی او نمبر 783 کے تحت 2 جون 2024 کو منظوری دی۔ اسی تناظر میں شاعر کی غیر متوقع وفات کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے خاندان کی مدد کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آندے سری کے فرزند دتہ سائی کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے تحت ایک ڈگری کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری آرڈیننس نمبر 7 کے ذریعے 25 نومبر 2025 کو عمل میں آئی، جسے بعد ازاں ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ کی شناخت شاعروں اور فنکاروں کے ذریعے پروان چڑھی ہے۔ انہوں نے سابقہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تحریک کے دوران فنکاروں کو استعمال کیا مگر بعد میں نظر انداز کر دیا۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے آندے سری اور گدّر دونوں کو اعزاز دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ نندی ایوارڈز کا نام تبدیل کر کےغدّر ایوارڈز رکھا گیا اور ثقافتی محکمہ نے پاشم یادگیری، جے راجو، گوڑا انجنا اور گوراتی وینکنّا جیسے فنکاروں کو بھی تسلیم کیا، جنہوں نے تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

آخر میں نائب وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تلنگانہ بھر کے شاعروں اور فنکاروں کے احترام اور سرپرستی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔