Read in English  
       
Pickle Raid

حیدرآباد ۔ شہر کے علاقے ضیا گوڑہ میں ایک غیر قانونی اچار یونٹ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تقریباً ₹3,00,000 مالیت کا غیر معیاری اور مضر صحت اسٹاک ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی کمشنر ٹاسک فورس اور کلثوم پورہ پولیس نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹوں میں سپلائی ہونے والی خطرناک اشیاء کا انکشاف ہوا۔ مزید یہ کہ اس یونٹ کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق 62 سالہ کے رویندر کو گرفتار کیا گیا جو ضیا گوڑہ کے وینکٹیش نگر میں اس کاروبار کو چلا رہا تھا۔ وہ مختلف اقسام کے اچار غیر صحت بخش حالات میں تیار کرتا تھا اور کم معیار کے خام مال کا استعمال کرتا تھا۔ تاہم، اس سرگرمی نے نہ صرف صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالا بلکہ خوراکی معیار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔

غیر معیاری تیاری اور خطرناک سپلائی چین | Pickle Raid

حکام نے بتایا کہ ملزم لال مرچ، آملہ، ٹماٹر اور لیموں کے اچار بغیر کسی بنیادی صفائی کے اصولوں کے تیار کرتا تھا۔ مزید برآں، وہ باسی آم اور لیموں کو پتھر کے نمک میں محفوظ کر کے غیر مجاز طریقے سے استعمال کر رہا تھا۔ اس کے بعد یہ مصنوعات کرانہ اسٹورز، جنرل دکانوں، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کو سپلائی کی جاتی تھیں، جس سے بڑے پیمانے پر عوام متاثر ہو سکتے تھے۔

اطلاع ملنے کے بعد ٹاسک فورس ٹیم نے نگرانی شروع کی اور بعد ازاں ایک منظم چھاپہ مار کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں اسٹاک ضبط کیا۔ اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ غیر قانونی یونٹ میں سامان ڈرمز میں غیر محفوظ طریقے سے رکھا گیا تھا، جو صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتا تھا۔

ضبط شدہ اشیاء اور قانونی کارروائی | Pickle Raid

پولیس نے 15 ڈرم لال مرچ اچار جن کا وزن 2,400 کلوگرام تھا، اور 2 ڈرم آملہ اچار جن کا وزن 320 کلوگرام تھا، برآمد کیے۔ مزید یہ کہ 9 ڈرم ٹماٹر واٹر جن کا وزن 1,440 کلوگرام تھا اور 1 ڈرم ٹماٹر اچار 160 کلوگرام کے ساتھ ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ 1 ڈرم لیموں اچار اور 2 ڈرم ڈول لیموں 320 کلوگرام کے ساتھ بھی برآمد ہوئے۔

مزید برآں، 13 ڈرم پتھر کے نمک میں محفوظ آم جن کا وزن 2,080 کلوگرام تھا اور 13 ڈرم لیموں بھی اسی وزن کے ساتھ ضبط کیے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر ضبط شدہ مالیت ₹3,00,000 تک پہنچ گئی، جو اس غیر قانونی کاروبار کے وسیع پیمانے کو ظاہر کرتی ہے۔

حکام کے مطابق ملزم نے آلودہ خوراکی مصنوعات فروخت کر کے عوامی صحت کو شدید خطرے میں ڈالا۔ لہٰذا، کلثوم پورہ پولیس اسٹیشن میں کرائم نمبر 90/2026 کے تحت بی این ایس کی دفعات 318(1)، 274 اور 275 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کارروائی کی نگرانی ایڈیشنل ڈی سی پی اندے سرینواس راؤ نے کی، جبکہ انسپکٹر آر وینکٹیش، انسپکٹر اے رامولو، ایس آئی کے وینکٹ رامنا، ایس آئی کے شویتا اور دیگر عملے نے چھاپہ مکمل کیا۔

آخر میں، پولیس نے واضح کیا کہ خوراکی تحفظ کے خلاف کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔