Read in English  
       
Bike Stunts

حیدرآباد ۔ شہر کے حساس علاقے میں خطرناک بائیک اسٹنٹس کرنے والے دو نوجوانوں کو سیف آباد پولیس نے گرفتار کر لیا، جس کے بعد عوامی تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یہ واقعہ لمبنی پارک اور تلنگانہ سیکریٹریٹ کے قریب پیش آیا جہاں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ مزید یہ کہ شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا جس پر فوری کارروائی ضروری سمجھی گئی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت 19 سالہ محمد عقیل اور 22 سالہ محمد عتیق کے طور پر ہوئی ہے۔ عقیل پیشے کے لحاظ سے کورئیر ورکر ہے اور مشیرآباد کے علاقے بھولک پور کا رہائشی ہے، جبکہ عتیق ایک نجی ملازمت کرتا ہے اور نامپلی کے آغاپورہ میں مقیم ہے۔ دونوں نوجوان مسلسل لاپرواہی سے موٹر سائیکل چلا کر ویڈیوز بنا رہے تھے تاکہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر سکیں۔

Bike Stunts | حساس علاقوں میں خطرناک سرگرمیاں

پولیس نے بتایا کہ دونوں ملزمان ہر بائیک اسٹنٹ کو خاص انداز میں ریکارڈ کرتے تھے تاکہ آن لائن مقبولیت حاصل ہو۔ تاہم، اس عمل سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہوئی بلکہ روزانہ گزرنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، چونکہ یہ سرگرمیاں اہم سرکاری دفاتر کے قریب ہو رہی تھیں، اس لیے سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے۔

اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے ملزمان کی نگرانی شروع کی اور ایک منصوبہ بند کارروائی کے تحت دونوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی موٹر سائیکلیں ضبط کر لی گئیں اور وہ موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گئے جن کے ذریعے ویڈیوز بنائی جا رہی تھیں۔ اس طرح شواہد کو محفوظ کرتے ہوئے قانونی کارروائی کو مضبوط بنایا گیا۔

Bike Stunts | قانونی کارروائی اور پولیس انتباہ

پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے نہ صرف عوامی جان کو خطرے میں ڈالا بلکہ حساس علاقے میں ٹریفک کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ لہٰذا، انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ مزید یہ کہ اس کارروائی نے واضح پیغام دیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

اس آپریشن کی نگرانی ایس ایچ او اے سیتھیہ نے کی، جبکہ تفتیشی افسر وی پرمیشوری نے کیس کی قیادت کی۔ ان کے ساتھ ایل سمپت کمار، بی وجے کمار، جے لنگاسوامی اور ایس مہیش نے بھی معاونت فراہم کی۔ دریں اثنا، پولیس نے خبردار کیا کہ عوامی سڑکوں پر بائیک اسٹنٹس کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

آخر میں، حکام نے واضح کیا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور اسی لیے مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کے خلاف فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔