Read in English  
       
Employee Insurance

حیدرآباد ۔ ریاست تلنگانہ میں توانائی محکمہ کے دورانِ ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ کو 1 کروڑ روپے کے انشورنس چیکس فراہم کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اسمبلی اجلاس کے دوران ایک خصوصی پروگرام میں یہ چیکس حوالے کیے۔ تاہم اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

پس منظر کے طور پر حکومت نے حالیہ عرصے میں فلاحی اقدامات کو وسعت دینے پر زور دیا ہے تاکہ ملازمین کے خاندانوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں یہ اقدام سرکاری پالیسی میں سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ،اورسو سریش اور مختار بیگ کے اہل خانہ کو چیکس حوالے کیے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کسی بھی خاندان کو اپنے کفیل کے انتقال کے بعد مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

فلاحی اقدامات میں توسیع | Employee Insurance

وزیر اعلیٰ نے توانائی وزیر بھٹی وکرمارکا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کئی اہم اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ مزید یہ کہ راجیو آروگیہ سری اسکیم کے تحت صحت بیمہ کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

لہٰذا اس فیصلے سے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ اس کے ساتھ ہی سی پی ای سی سروے کے تحت شناخت شدہ خاندانوں کو 5 لاکھ روپے کا انشورنس فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

سماجی تحفظ کا نظام مضبوط | Employee Insurance

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ بجلی کے شعبے کے ملازمین اور سنگارینی کارکنوں کے لیے 1 کروڑ روپے سے زائد حادثاتی انشورنس فراہم کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں اس اقدام کا مقصد ملازمین کے لیے مضبوط سماجی تحفظ کا نظام قائم کرنا ہے۔

اسی دوران انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران چیکس کی تقسیم کا مقصد ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اعتماد کو بڑھانا ہے۔ نتیجتاً یہ اقدام حکومتی فلاحی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس موقع پر کئی وزراء بھی موجود تھے جن میں بھٹی وکرمارکا، پونگولیٹی سرینواس ریڈی، تملا ناگیشور راؤ، جوپلی کرشنا راؤ، سیتکا، کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی، ویویک وینکٹ سوامی اور اتم کمار ریڈی شامل تھے۔ مزید برآں پرنسپل سیکریٹری توانائی نوین متل بھی پروگرام میں شریک ہوئے۔

آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ملازمین اور ان کے خاندانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ نتیجتاً یہ پالیسی ریاست میں فلاحی نظام کو مزید مضبوط بنائے گی۔