Read in English  
       
Ward Delimitation

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے منگل کے روز وارڈ حدبندی کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ یہ پیش رفت 27 اربن لوکل باڈیز کو جی ایچ ایم سی حدود میں ضم کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ تلنگانہ گزٹ میں اس انضمام کا نوٹیفکیشن 9 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔

خصوصی کارپوریشن اجلاس کے دوران جی ایچ ایم سی نے فارم-I کے تحت ابتدائی نوٹیفکیشن پیش کیا۔ اس موقع پر منتخب نمائندوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی تجاویز اور اعتراضات جمع کروائیں۔ حکام کے مطابق اس انضمام سے مختلف علاقوں کو ایک ہی بلدیاتی نظام کے تحت لایا جا سکے گا۔

شہری خدمات میں یکسانیت | Ward Delimitation

عہدیداروں نے اجلاس میں وضاحت کی کہ توسیع شدہ حدود سے شہری ترقی میں یکسانیت آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے نتیجے میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔

اجلاس کے دوران ہر کارپوریٹر اور ایکس آفیشیو رکن کو دو منٹ دیے گئے تاکہ وہ اپنی رائے پیش کر سکیں۔ کمشنر کرنن اور ان کی ٹیم نے تمام آرا، تجاویز اور اعتراضات کو تحریری شکل میں محفوظ کیا۔

تجاویز حکومت کو ارسال | Ward Delimitation

جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اجلاس میں اٹھائے گئے تمام نکات کو نہ صرف ریکارڈ کیا گیا بلکہ انہیں مزید غور کے لیے حکومت کو بھی بھیجا جائے گا۔ اس عمل کو شفاف اور جامع بنانے پر زور دیا گیا۔

ڈپٹی میئر سری لتھا، کمشنر کرنن، کارپوریٹرز، افسران اور میڈیا نمائندے اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے عہدیداروں نے تمام اراکین سے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ کمشنر کرنن نے ایوان کو حدبندی کے معیار اور طریقہ کار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔