Read in English  
       
Waqf Amendment Act 2025

حیدرآباد: سپریم کورٹ آج وقف ترمیمی قانون 2025 پر عمل درآمد روکنے سے متعلق درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گا۔ کئی درخواست گزاروں نے اس قانون کی سخت مخالفت کی ہے، جبکہ مرکز نے اس کا بھرپور دفاع کیا۔ Waqf Amendment Act 2025 کو 5 اپریل کو صدرِ جمہوریہ کی منظوری ملی تھی۔

چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد 22 مئی کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ درخواست گزاروں میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید شامل ہیں۔

درخواست گزاروں کے دلائل

سینئر وکیل کپل سبل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون غیر آئینی اور من مانا ہے۔ انہوں نے اس شق کی مخالفت کی جو تحقیقات کے دوران وقف حیثیت کو معطل کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اسی دوران سینئر وکیل راجیو دھون نے کہا کہ وقف کی روحانی اور سماجی اہمیت ہے اور کوئی بیرونی اتھارٹی یہ طے نہیں کر سکتی کہ کون سی چیز مذہبی روایت کے لیے لازمی ہے۔

مرکز کا موقف

دوسری طرف سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وقف بورڈ دراصل سیکولر نوعیت کا کام کرتے ہیں اور وقف خود کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ ان کے مطابق نیا قانون وقف اراضی کے غلط استعمال کو روکنے اور شفافیت لانے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو سابق چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے Waqf Amendment Act 2025 پر حکمِ امتناعی جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم اس وقت مرکز نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ متنازع دفعات پر فوری عمل درآمد نہیں کرے گا۔