Read in English  
       
Telugu States Mourning

حیدرآباد: تلگو ریاستوں میں پیر کے روز تلنگانہ ترانے کے خالق اور معروف شاعر اندیشری کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ ان کے نغموں نے تلنگانہ تحریک کو ایک توانا آواز دی تھی۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندر بابو نائیڈو نے اندیشری کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تلگو ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
 اپنے پیغام میں چندر بابو نائیڈو نے لکھا، “ڈاکٹر اندیشری، جنہوں نے تلنگانہ کو اس کا ریاستی ترانہ دیا، ان کی موت صدمہ خیز ہے۔ ان کا جانا تلگو ادب میں ایک گہرا خلا چھوڑ گیا ہے۔ میں ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہوں اور ان کی روح کے سکون کے لیے دعا گو ہوں۔”

پون کلیان اور نارا لوکیش کا خراجِ عقیدت | Telugu States Mourning

نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے اندیشری کے اچانک انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک چرواہے سے معروف شاعر بننے تک کا ان کا سفر ہمت اور استقلال کی شاندار مثال ہے۔ پون کلیان نے کہا کہ اندیشری کی شاعری میں تلنگانہ کی بولی اور لوک ورثہ ہمیشہ جھلکتا رہا، جس نے ان کے کلام کو امر کر دیا۔
 انہوں نے کہا کہ گیت “مایا مایپوتھنادما منیشاننا وادو” انسانی زندگی کے گہرے شعور کی عکاسی کرتا ہے جبکہ “جیا جیاہے تلنگانہ جننی جیاہے کیتنم” نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پون کلیان نے شاعر کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور ان کی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔
 اسی دوران وزیر نارا لوکیش نے بھی سماجی پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تاثرات میں کہا، “میں عوامی شاعر اندیشری کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتا ہوں۔

ان کا گیت ’مایا مایپوتھنادما‘ ایک نسل کے لیے بیداری کا پیغام بن گیا۔ تلگو ادب میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اندیشری کی زندگی نے بے شمار نوجوان لکھاریوں کو متاثر کیا۔

انسانی جذبے کے شاعر کی جدائی | Telugu States Mourning

تلنگانہ کے وزیر کولوسو پارتھاسارتھی نے کہا کہ اندیشری کی موت عوام کے شاعر کی جدائی ہے، جنہوں نے اپنے الفاظ سے انسانی جذبات کو جھنجھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ “مایا مایپوتھنادما منیشاننا وادو” جیسے گیت نے انسانیت اور ہمدردی کے جذبے کو بیدار کیا۔
پارتھاسارتھی نے کہا، “اندیشری تلنگانہ کے عوام اور ان کی تحریک کی آواز بنے رہے۔ ان کی اچانک موت دل دہلا دینے والی ہے۔” انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور ان کی ادبی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔