Read in English  
       
Life Sciences

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے لائف سائنسز شعبے میں 2030 تک 1 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے 5 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر صنعت و آئی ٹی ڈی۔ سریدھر بابو نے بدھ کو یہ اعلان آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں منعقدہ ’’آس بائیوٹیک انٹرنیشنل کانفرنس 2025‘‘ میں کیا۔

تقریب میں وزیر نے ’’تلنگانہ روڈ میپ 2030‘‘ پیش کیا، جو ریاست کو عالمی سطح پر لائف سائنسز انوویشن کا مرکز بنانے کی حکمت عملی ہے۔ اس کانفرنس کی میزبانی آس بائیوٹیک اور حکومتِ وکٹوریہ نے مشترکہ طور پر کی۔

سریدھر بابو نے بتایا کہ حکومت ایک جامع لائف سائنسز پالیسی تیار کر رہی ہے جس کا مقصد انفراسٹرکچر کی ترقی، عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینا، اور بایوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ہیلتھ کیئر میں جدت لانا ہے۔

تلنگانہ کی معیشت تیز رفتار ترقی پر | Life Sciences

وزیر نے بتایا کہ ریاست معاشی لحاظ سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ تلنگانہ رقبے میں 11ویں اور آبادی میں 12ویں نمبر پر ہے، لیکن وہ ملک کے جی ڈی پی میں 5 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہی ہے۔ مالی سال 2024–25 میں ریاست کی جی ایس ڈی پی شرح نمو 8.2 فیصد رہی، جو قومی اوسط 7.6 فیصد سے زیادہ ہے۔

گزشتہ 20 ماہ میں تلنگانہ نے مجموعی طور پر 3.2 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری حاصل کی، جن میں سے 63,000 کروڑ لائف سائنسز کے شعبے سے آئے۔ اپریل تا دسمبر 2024 کے درمیان اس شعبے کی برآمدات 26,000 کروڑ روپئے سے تجاوز کر گئیں۔

حیدرآباد کی عالمی سطح پر پہچان | Life Sciences

وزیر کے مطابق ریاست کا مقصد 2030 تک لائف سائنسز معیشت کی قدر کو 80 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 250 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے سی بی آر ای رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’گلوبل لائف سائنسز اٹلس 2025‘‘ میں حیدرآباد کو بوسٹن، سان فرانسسکو، کیمبرج، بیجنگ اور ٹوکیو جیسے عالمی مراکز کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ یہ فہرست میں شامل واحد بھارتی شہر ہے۔

مہارت کی تربیت اور عالمی اشتراک | Life Sciences

تلنگانہ حکومت نئی نسل کو عالمی معیار کی مہارتوں سے لیس کرنے پر سرمایہ لگا رہی ہے۔ ’’لائف سائنسز یونیورسٹی‘‘ اور ’’ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی‘‘ جیسے منصوبے بائیو ڈیجیٹل دور کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں۔

ریاست نے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی بڑھائی ہے، جن میں ورلڈ اکنامک فورم کا ’’سینٹر فار فورتھ انڈسٹریل ریولوشن‘‘ بھی شامل ہے تاکہ انوویشن ایکو سسٹم کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

سریدھر بابو نے کہا، ’’تلنگانہ کی اصل طاقت اس کا انوویشن ایکو سسٹم ہے۔ ہمارا نعرہ صرف ‘Make in India’ نہیں بلکہ ‘Invent in Telangana’ ہے۔‘‘

انہوں نے آسٹریلین کمپنیوں کو ریاست کے ابھرتے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عالمی سطح پر نئی صنعتوں کا مرکز بننے کے لیے تیار ہے۔