Read in English  
       
Investment Surge

حیدرآباد: تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ نے دو دن کے دوران ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں سے ریکارڈ سرمایہ کاری حاصل کی۔ مجموعی طور پر 5.75 لاکھ کروڑ روپئے کے معاہدے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی اور وزیر صنعت دُوڈیلا سریدھر بابو کی موجودگی میں طے پائے۔ پہلے دن 2.43 لاکھ کروڑ، جبکہ دوسرے دن 3.32 لاکھ کروڑ کی تجاویز پیش ہوئیں۔ سب سے زیادہ سرمایہ ماحول دوست توانائی میں آیا، جہاں 2.99 لاکھ کروڑ کے منصوبے طے ہوئے، جن سے 1,61,250 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ریاست کو پمپڈ اسٹوریج یونٹس اور سولر پلانٹس میں بڑی دلچسپی ملی۔ کمپنیوں نے 10,120 میگاواٹ پمپڈ اسٹوریج اور 3,000 میگاواٹ سولر صلاحیت کی تجویز دی۔ تلنگانہ جینکو نے 11 کمپنیوں کے ساتھ 1,76,348 کروڑ کے معاہدے کیے، جبکہ ٹی جی آر ریڈکو نے 1,23,350 کروڑ کے گرین انرجی منصوبے طے کیے۔ فارما، ڈیٹا پارکس اور الیکٹرانکس سمیت کئی شعبوں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری سامنے آئی۔

ماحول دوست توانائی اور ڈیٹا پارکس میں بڑا اضافہ | Investment Surge

انفراہائیو ڈی سی پارک نے 150 ایکڑ میں ایک گیگاواٹ صلاحیت کے ساتھ 70,000 کروڑ کا ڈیٹا پارک تجویز کیا۔ جے سی کے انفرا نے 9,000 کروڑ کے ڈیٹا سینٹرز پلان کیے جن سے 2,000 ملازمتیں متوقع ہیں۔ اے جی پی گروپ نے 6,750 کروڑ کا ڈیٹا سینٹر، جبکہ زین ٹیکنالوجی نے 5,000 کروڑ سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ بھارت گَرُڈا نے 2,100 کروڑ کا وہیکل یونٹ تجویز کیا۔

سی ایس، ایس ٹی انٹرپرائزز کنفیڈریشن نے 577.11 کروڑ کے گرین انڈسٹریل پارکس اور 2,500 ملازمتوں کی منصوبہ بندی کی۔ بایولاجیکل ای لمیٹڈ نے 3,500 کروڑ کے ویکسین اور آر اینڈ ڈی توسیعی منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے کل سرمایہ کاری 4,000 کروڑ تک پہنچ گئی۔ فرٹیس انڈیا نے 2,000 کروڑ کے ایڈوانسڈ فوڈ اینڈ فارم ریسرچ یونٹ اور 200 کروڑ کے پلانٹ نیوٹرینٹس تجویز کیے۔

ونٹیج کافی نے 1,100 کروڑ کا فریز ڈرائیڈ پلانٹ اور 1,000 ملازمتیں، جبکہ ریلائنس کنزیومر پراڈکٹس نے 1,500 کروڑ کا یونٹ اور اتنی ہی ملازمتیں متوقع بتائیں۔ کینس ٹیکنالوجی نے 1,000 کروڑ سے زائد الیکٹرانک مینوفیکچرنگ، اور آر سی ٹی انرجی نے 2,500 کروڑ کے تین مراحل میں 1,600 ملازمتوں کا منصوبہ پیش کیا۔

فارما، ٹیکنالوجی اور نئی صنعتی راہیں | Investment Surge

پارویو گروپ نے 50 میگاواٹ کے اے آئی ڈیٹا سینٹر اور 3,000 ملازمتوں کی تجویز دی۔ اوروبندو فارما نے 2,000 کروڑ کے توسیعی منصوبوں کا اعلان کیا، جن سے 3,000 سے زائد ملازمتیں ملیں گی۔ ہیٹرو نے 1,800 کروڑ کے یونٹس اور 9,000 سے زیادہ ملازمتوں کا خاکہ پیش کیا۔ گرانولز انڈیا نے 1,200 کروڑ کی سرمایہ کاری اور 2,500 تا 3,000 ملازمتوں کا تخمینہ دیا۔ بھارت بایوٹیک نے 1,000 کروڑ کا ایڈوانسڈ ریسرچ و مینوفیکچرنگ یونٹ تجویز کیا۔

کے جے ایس انڈیا نے 650 کروڑ کے فوڈ اینڈ بیوریج یونٹس اور 1,551 ملازمتیں، جبکہ گودریج انڈسٹریز نے 150 کروڑ کی ڈیری توسیع اور پچاس لاکھ لیٹر کی صلاحیت کا منصوبہ پیش کیا۔ ایکویلون نیکسس نے 50 میگاواٹ کلین انرجی ڈیٹا سینٹر اور انکور بایوورما نے 250 کروڑ کے سینٹر آف ایکسی لینس کی تجویز دی۔ وزی ہولڈنگز اور ملٹی اومکس لیبز نے دس برس میں 2,500 کروڑ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

ٹی ڈبلیو آئی گروپ نے 1,100 کروڑ کے پلگ اِن ہائبرڈ موٹربائیک پلانٹ اور 500 ملازمتوں کا منصوبہ بتایا۔ ماضی میں مہندرا اینڈ مہندرا نے 500 کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری زہیرآباد یونٹ کے لیے طے کی تھی۔ انڈیا ایکسٹریم ایڈونچر گروپ نے 500 کروڑ کے ایکسٹریمنڈ اسپورٹس و ای اسپورٹس ایرینا کی تجویز دی۔

سیاحت، کھیل اور عالمی مراکز کی بڑی پیش رفت | Investment Surge

زیورخ انشورنس نے اپنا پہلا عالمی کیپیبیلٹی سینٹر حیدرآباد میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کینیڈین امپیریل بینک آف کامرس نے انجینئرنگ اور سائبر ورک کے لیے اپنا پہلا انڈیا سینٹر تجویز کیا۔ امریکی کمپنی میکسمس نے پبلک سیکٹر ٹیک آپریشنز ہب کا اعلان کیا۔ جی ایم آر نے سیٹلائیٹ اسپورٹس سٹی، اینالاگ اے آئی نے ریسرچ لیب جبکہ آلٹ مِن نے بیٹری را مٹیریل یونٹ تجویز کیا۔

صرف سیاحت کے شعبے میں 7,045 کروڑ کی تجاویز موصول ہوئیں جن میں 10,000 براہِ راست اور 30,000 بالواسطہ ملازمتیں شامل ہیں۔ فوڈلِنک نے 3,000 کروڑ، ڈریم ویلی نے 1,000 کروڑ کے گالف و ریزورٹ منصوبے پیش کیے۔ سارُس انفراسٹرکچر نے 1,000 کروڑ، جبکہ مالدیپ کی کمپنی اٹماسفئیر کور ہوٹلز نے 800 کروڑ کی سرمایہ کاری تجویز کی۔ کے آئی ای گروپ نے 200 کروڑ، ملٹی ورس ہوٹلز نے 300 کروڑ، فلوڈرا انڈیا نے 300 کروڑ، ہوویشا نے 300 کروڑ، ردھیرا نے 120 کروڑ اور وِساکھا ریکریئیشن نے 25 کروڑ کا منصوبہ پیش کیا۔ آئیفا اتسوَّم اور ایتھینز ایونٹس نے 550 تا 600 کروڑ کے معاشی فوائد کی توقع ظاہر کی۔

فلم، میڈیا اور نئی آبادیاتی اسکیمیں | Investment Surge

اجے دیوگن فلم اسٹوڈیو نے پی پی پی ماڈل کے تحت وی ایف ایکس یونٹس اور ورکشاپس کے ساتھ فلم ایکوسسٹم بنانے کا منصوبہ بتایا۔ سلمان خان نے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے مقصد سے ٹاؤن شپ اور اسٹوڈیو منصوبہ تجویز کیا۔ بلیک اسٹون ایشیا نے ڈیٹا سینٹرز، لوجسٹکس ہب اور کمرشیل اسپیس میں دلچسپی ظاہر کی۔ آخر میں سُمادھورا گروپ نے نئی ٹاؤن شپ اور مڈ اِنکم ہاؤسنگ کلسٹرز کی تجویز پیش کی۔