Read in English  
       
Eco Tourism

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے منگل کے روز عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تلنگانہ میں Eco Tourism کے فروغ اور ریاست کے جنگلاتی وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ دی جائے۔ کمانڈ کنٹرول سینٹر میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں وسیع جنگلات، دریا اور آبشاریں موجود ہیں جو منصوبہ بند سہولتوں کے ذریعے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں امرآباد اور کاول ٹائیگر ریزروز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود لوگ دیگر ریاستوں کے بندی پور یا تاڈوبا ریزروز کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ مقامی ٹائیگر ریزروز میں سہولتوں کو بہتر بنایا جائے تاکہ مزید سیاح یہاں آئیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ورنگل کاکتیہ زو کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقی دینے کے منصوبے بنانے کی ہدایت دی، کیونکہ یہ شہر ریاست کا دوسرا بڑا شہری مرکز ہونے کی وجہ سے بھرپور امکانات رکھتا ہے۔

Eco Tourism

وزیر اعلیٰ نے محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کو مشترکہ سروے کر کے سرحدی تنازعات حل کرنے کی ہدایت دی اور کلکٹرس کو اس معاملے پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے جنگلی جانوروں کے حملوں میں زخمی ہونے والوں کو فوری معاوضہ دینے، اور مویشی یا گھریلو جانور کھو دینے والوں کو وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے فوری ادائیگی کرنے کی ہدایت بھی دی۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگلاتی علاقوں میں سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے محکمہ جات کے قریبی تعاون سے آگے بڑھائے جائیں، اور مرکزی حکومت سے ضروری کلیئرنس جلد از جلد حاصل کی جائیں۔ جنگلی حیات کی نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے ہدایت دی کہ تمام جنگلاتی نگرانی کیمرے کمانڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیے جائیں، تاکہ جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت اور تحفظ کے اقدامات کی مؤثر نگرانی ہو سکے۔

اجلاس میں محکمہ جنگلات میں عملے کی کمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ مرکز سے مزید آئی ایف ایس افسران کی منظوری حاصل کی جائے اور ترقیات و نئی بھرتیوں کے لیے تجاویز تیار کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہترین کارکردگی پر انعامات کی بحالی ضروری ہے تاکہ ملازمین کی حوصلہ افزائی ہو۔

اس اجلاس میں وزیر جنگلات کونڈا سُریکھا ، سینئر عہدیداروں اور محکمہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں سڑکوں کے منصوبوں، جنگلاتی سیاحت کے فروغ اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔