Read in English  
       
HYDRAA

حیدرآباد: ہائیڈرا HYDRAAکے کمشنر رنگاناتھ نے کہا ہے کہ شہری آبی ذخائر اور لچکدار نظام کے تحفظ کے لیے 100 سالہ منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال 6 جھیلوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں اور اس سال کی اولین ترجیح سائنٹیفک بنیادوں پر ایف ٹی ایل اور بفر زون کو حتمی شکل دینا ہے۔

بشیر باغ پریس کلب میں ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو ہائیڈرا کے مینڈیٹ کے بارے میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے۔ یہ ادارہ کسی ایک یا دو سال کا تجربہ نہیں بلکہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جس کے اقدامات کو شہریوں نے ابتدائی رکاوٹوں کے باوجود خوش آمدید کہا ہے۔

رنگاناتھ نے کہا کہ حیدرآباد میں 900 سے زائد جھیلیں ہیں لیکن بیشتر کی حتمی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، جن میں سلکم چیرو بھی شامل ہے۔ چونکہ بغیر نوٹیفکیشن انہدامی کارروائی عدالتوں میں چیلنج ہو سکتی ہے، اس لیے ہائیڈرا سائنٹیفک ڈیٹا جمع کر کے درست ایف ٹی ایل اور بفر زون متعین کر رہا ہے۔ اس عمل کو سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ درگم چیرو کو 2015 میں نوٹیفائی کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر وہاں عمل آوری ممکن ہوئی۔ ہائیڈرا اب جھیلوں کے ساتھ ملحقہ نالوں کو بھی نوٹیفائی کر رہا ہے تاکہ مکمل ہائیڈرولوجیکل نیٹ ورک محفوظ رہ سکے۔

فاطمہ کالج کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ عمارت 2015–16 میں تعمیر کی گئی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی خصوصی قانون نہیں، وہی اصول فاطمہ کالج، ملاریڈی کالج اور پلا راجیشور ریڈی کالج پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ہائیڈرا اپنے اقدامات کو اس طرح تیار کر رہا ہے کہ اگر عدالت میں چیلنج کیا جائے تو وہ برقرار رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض افراد نے سی ایس آر کے نام پر جھیلوں کے اطراف قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ہائیڈرا اب تکنیکی بنیادوں پر ایف ٹی ایل لائن کھینچ رہا ہے تاکہ اس کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ جھیلوں کے قریب زمینوں کی قیمت کروڑوں تک پہنچ چکی ہے، اس لیے سخت اور سائنٹیفک حدود بندی ناگزیر ہے۔

کمشنر نے حکومت کے مؤقف کو دہرایا کہ ہائیڈرا کے قیام سے پہلے ایف ٹی ایل اور بفر زون میں موجود مکانات کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوگی۔ موجودہ عمل کا مقصد درست نقشہ بندی، مستقبل میں تحفظ اور نظام کے مطابق عمل آوری کو یقینی بنانا ہے۔