Read in English  
       
Surrogacy

حیدرآباد: پیٹ بشیرآباد پولیس نے حیدرآباد میں کمرشیل Surrogacyاور illegal egg tradeکی خرید و فروخت کے ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے سات خواتین اور ایک مرد کو گرفتار کر لیا۔ یہ گروہ بانجھ جوڑوں اور مالی طور پر کمزور خواتین کو نشانہ بنا کر مالی فائدہ حاصل کرتا تھا۔

تحقیقات میں 45 سالہ ناریدللا لکشمی ریڈی، ساکن چندل، قتب اللہ پور، کو اس سازش کا سرغنہ قرار دیا گیا۔ وہ ماضی میں خود انڈے دینے اور سروگیٹ کے طور پر کام کر چکی تھی اور اسی تجربے اور نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کو بھرتی کر کے انہیں فرٹیلٹی مراکز بھیجتی تھی۔ لکشمی ریڈی ان خواتین کو اپنے گھر پر رکھتی اور کلینکس سے ماہانہ ادائیگیاں وصول کرتی تھی۔ اس کا بیٹا نریندر ریڈی، جو کیمیکل انجینئرنگ گریجویٹ ہے، اس کارروائی میں فعال کردار ادا کرتا تھا۔

پولیس نے ملزمان کے تعلقات شہر کے کئی کلینکس سے جوڑے ہیں، جن میں ہیگڑے فرٹیلٹی اسپتال، انو ٹیسٹ ٹیوب سنٹر، فرٹی کیئر، ایوا آئی وی ایف، امولیا آئی وی ایف سنٹر اور سری فرٹیلٹی سنٹر شامل ہیں۔ حکام ان روابط کی مزید جانچ کر رہے ہیں۔ چھاپوں میں 6.47 لاکھ روپئے نقد، پانچ اسمارٹ فونز، ایک لینووو لیپ ٹاپ، پرومسری نوٹس، ہارمون انجیکشنز، حمل کی دوائیں اور کیس فائلز برآمد ہوئیں۔

تمام خواتین کو کمرشیل سروگیسی پر پابندی کا علم تھا، اس کے باوجود وہ مالی فائدے کے لیے انڈے دینے یا سروگیٹ بننے پر راضی ہوئیں۔ گرفتار شدگان میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کی خواتین شامل ہیں، جن میں سے کچھ اس کام میں پہلے بھی ملوث رہی ہیں۔

لکشمی ریڈی کے خلاف 2024 میں ممبئی کی سی آئی ڈی یونٹ-2 نے جویونائل جسٹس ایکٹ کے تحت انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

اس کیس میں پولیس نے ملزمان کے خلاف سروگیسی ریگولیشن ایکٹ، اسسٹڈ ری پروڈکٹیو ٹیکنالوجی ایکٹ اور بی این ایس ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ سائبرآباد کی اسپیشل آپریشنز ٹیم (میڑچل زون) نے ضلعی میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر کی مدد سے یہ کارروائی انجام دی۔ گروہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مزید روابط کی تلاش جاری ہے۔