Read in English  
       
AI Policing

حیدرآباد: ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ کی سمت ایک اہم پیش رفت میں حیدرآباد سٹی پولیس نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹلیجنس) پر مبنی نظام سی-مترا کے ذریعے صرف 10 دن میں 100 سے زائد ایف آئی آر درج کی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سائبر جرائم کے متاثرین کو تیز اور آسان انصاف فراہم کرنا ہے۔

یہ ورچوئل ہیلپ ڈیسک 9 جنوری کو پولیس کمشنر وی سی سجنار کی جانب سے متعارف کرایا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں سی-مترا ٹیم نے 1,000 متاثرین سے رابطہ کیا اور بغیر تھانے آئے شکایات کے اندراج میں مدد فراہم کی۔

شکایت سے ایف آئی آر تک آسان سفر | AI Policing

شکایت کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب متاثرہ فرد 1930 سائبر کرائم ہیلپ لائن یا قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل سے رابطہ کرتا ہے۔ اس کے بعد سی-مترا ٹیم فون پر تفصیلات حاصل کرتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے قانونی تقاضوں کے مطابق شکایت کا مسودہ تیار کرتی ہے۔

یہ مسودہ واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے متاثرہ شخص کو بھیجا جاتا ہے، جسے وہ پرنٹ کرکے دستخط کے بعد بشیر باغ سائبر کرائم پولیس اسٹیشن ارسال کرتا ہے۔ دستاویز موصول ہوتے ہی ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے اور اس کی ڈیجیٹل کاپی براہِ راست متاثرہ فرد کو فراہم کی جاتی ہے۔

متاثرہ فرد کو اولیت، پولیس کا نیا انداز | AI Policing

سی-مترا نظام 24 رکنی خصوصی ٹیم کے ذریعے روزانہ صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک دو شفٹوں میں کام کر رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق اس طریقۂ کار سے شہریوں کا خوف کم ہوا ہے اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

خاتون کانسٹیبل دیکشیتا کے مطابق فون پر یقین دہانی ملنے سے متاثرین کی آواز میں اعتماد جھلکتا ہے۔ ایک اور کانسٹیبل پرتھوی کا کہنا ہے کہ یہ نظام ڈیجیٹل انقلاب کی مانند ہے کیونکہ اب شکایت لکھنے اور قانونی پیچیدگیاں سمجھنے میں مشکلات باقی نہیں رہیں۔

آخر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خواب ایسا مستقبل ہے جہاں سائبر جرائم ختم ہو جائیں اور سی-مترا جیسے نظام کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔