Read in English  
       
Ganja Smuggling

حیدرآباد: تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں گانجہ اسمگلنگ کی ایک کوشش اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گئی جب پولیس سے بچنے کی کوشش میں اسمگلروں نے اپنی گاڑی خاتون ایکسائز کانسٹیبل پر چڑھا دی۔ اس واقعے میں کانسٹیبل شدید زخمی ہو گئیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایکسائز پولیس کو پیشگی اطلاع ملی تھی کہ نرمل سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ بڑی مقدار میں گانجہ ایک کار کے ذریعے غیرقانونی طور پر منتقل کر رہا ہے۔ اس اطلاع پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے نظام آباد کے مضافاتی علاقے مادھونگر کے قریب نگرانی شروع کی۔

جیسے ہی مشتبہ گاڑی اس مقام کے قریب پہنچی، خاتون ایکسائز کانسٹیبل سومیا نے آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کو دیکھتے ہی ملزمان نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔

پولیس کارروائی کے دوران تشدد | Ganja Smuggling

فرار کے دوران ملزمان کی گاڑی نے سومیا کو زور دار ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ موقع پر موجود دیگر ایکسائز اہلکاروں نے فوری طور پر انہیں شہر کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ادھر پولیس نے تعاقب جاری رکھتے ہوئے گاڑی کو روک لیا اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ان کی شناخت محمد صوفی الدین اور سید شعیب کے طور پر ہوئی ہے۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے بڑی مقدار میں گانجہ برآمد کیا گیا۔

تفتیش اور مزید گرفتاریوں کی کوشش | Ganja Smuggling

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے گانجہ اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کی مکمل تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس غیرقانونی کاروبار سے جڑے دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور جلد مزید گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔

ایکسائز محکمہ نے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی اور پولیس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔