Read in English  
       
Rice Irregularities

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں مفت چاول اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس پر فورم فار گڈ گورننس نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے سربراہ ایم پدمنا بھا ریڈی نے حکومت سے سفید راشن کارڈز کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اہلیت کے اصولوں پر عملدرآمد میں سنگین کوتاہیاں ہو رہی ہیں۔

پس منظر کے طور پر یہ اسکیم غریب خاندانوں کی مدد کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، لیکن اب اس کے دائرہ کار میں غیر مستحق افراد کی شمولیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مزید برآں قواعد کے مطابق دیہی علاقوں میں سالانہ آمدنی 1.5 لاکھ روپے اور شہری علاقوں میں 2 لاکھ روپے سے کم ہونی چاہیے، جبکہ زمین کی ملکیت کی حد بھی مقرر ہے۔

فورم کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل مستحقین کی شرح 20فیصد سے کم ہے، لیکن تقریباً 85فیصد گھرانوں کو مفت چاول فراہم کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا یہ فرق اسکیم کے غلط استعمال اور مالی بوجھ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

راشن کارڈز میں اضافہ | Rice Irregularities

تنظیم نے کہا کہ ریاست میں 1.05 کروڑ سے زائد راشن کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جو غیر معمولی تعداد ہے۔ اگر ہر خاندان میں اوسط 4 افراد شمار کیے جائیں تو کل مستفیدین کی تعداد تقریباً 420 لاکھ بنتی ہے، جو ریاست کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

مزید برآں مرکز نے 54.67 لاکھ خاندانوں کے لیے اناج فراہم کیا، جو تقریباً 2 کروڑ افراد کے لیے کافی ہے۔ تاہم ریاست نے اس کے علاوہ 35.28 لاکھ اضافی راشن کارڈ جاری کیے جن سے 90 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے مزید 15.12 لاکھ نئے کارڈ جاری کیے۔

نتیجتاً مستحقین کی تعداد غیر حقیقی حد تک بڑھ گئی ہے، جس سے اسکیم کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی دوران بعض رپورٹس کے مطابق فی فرد 6 کلو چاول کی فراہمی تقریباً 85فیصد گھرانوں تک بڑھا دی گئی، جسے انتخابی حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے۔

زمینی سطح پر بے ضابطگیاں | Rice Irregularities

فورم کی فیلڈ اسٹڈی میں مختلف علاقوں میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ضلع نظام آباد کے انکاپور گاؤں میں 1,200 سے زائد خاندان مفت چاول حاصل کر رہے ہیں، جبکہ صرف 300 خاندان ہی اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

اسی طرح ضلع رنگا ریڈی، جو ملک کے امیر ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے، وہاں 98.7فیصد گھرانے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تاہم یہ صورتحال ضلع کی معاشی حالت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مزید یہ کہ تنظیم نے بارہا حکومت کو نمائندگی پیش کی، بشمول وزیر شہری رسد کو، لیکن اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ لہٰذا تنظیم نے اس صورتحال کو عوامی خزانے پر بڑا بوجھ قرار دیا ہے۔

آخر میں فورم نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مستفیدین کی تصدیق کی جائے، غیر مستحق افراد کو فہرست سے نکالا جائے اور فلاحی اسکیموں کو ہدفی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ نتیجتاً ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف نظام ہی اس اسکیم کو مؤثر اور پائیدار بنا سکتا ہے۔