Read in English  
       
Bharat Future City

حیدرآباد ۔
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ حکومت تلنگانہ ’’بھارت فیوچر سٹی‘‘ کو فارچون 500 کمپنیوں کا عالمی مرکز بنانے کے لیے جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، اس وقت 85 فارچون کمپنیاں پہلے ہی حیدرآباد میں کام کر رہی ہیں اور آئندہ تمام عالمی کمپنیاں بھارت فیوچر سٹی کا رخ کریں گی۔

Bharat Future City

یہ بات انہوں نے رنگاریڈی ضلع کے کندکور منڈل کے میرخان پیٹ میں فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی عمارت اور گرین فیلڈ ریڈیئل روڈ-1 کی بھومی پوجا تقریب میں کہی۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا، وزیر اقلیتی بہبود اے لکشمن کمار اور دیگر عوامی نمائندے موجود تھے۔

ریونت ریڈی نے بتایا کہ 20 کروڑ روپے کی لاگت سے 15 ہزار مربع فٹ پر مشتمل فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی عمارت صرف چار ماہ میں مکمل کی جائے گی۔ حکومت 765 مربع کلومیٹر کے دائرے میں 56 ریونیو گاؤں کو شامل کرتے ہوئے عالمی معیار کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کرے گی۔

درحقیقت، حکومت کا مقصد ہے کہ حیدرآباد پر آبادی کا بوجھ کم کرتے ہوئے نئے شہر کو کاروبار، تعلیم، ٹکنالوجی اور صحت کا عالمی مرکز بنایا جائے۔ مزید برآں، عالمی بینک اور جاپانی ایجنسی جائیکا اس پراجکٹ میں پارٹنر ہیں۔

Bharat Future City

ترقیاتی خاکہ، بین الاقوامی ماڈل اور حکومتی ویژن

اس دوران، چیف منسٹر نے یانگ انڈیا اسکل یونیورسٹی، سنگارینی کمپنی کے لیے عالمی دفتر اور آمنگل تک گرین فیلڈ سڑک جیسے کئی منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب دسمبر 2026 تک مکمل ہوں گے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ جنوبی ہند کی واحد ریاست ہے جہاں بندرگاہ نہیں ہے۔ اسی لیے ایک مربوط ہائی وے نیٹ ورک امراؤتی اور مچھلی پٹنم تک تعمیر کیا جائے گا، جب کہ امراؤتی سے چنئی تک بلیٹ ٹرین کا بھی منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ سری سیلم تک 100 میٹر چوڑی سڑک بھی تعمیر کی جائے گی۔

ریونت ریڈی نے اس موقع پر عوام کو یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی کو زمین کا نقصان ہوتا ہے تو مناسب معاوضہ اور روزگار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے گا، تاکہ ترقیاتی عمل میں رکاوٹ نہ ہو۔

Bharat Future City

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ذاتی کوئی اراضی ان علاقوں میں نہیں ہے اور بعض لوگ صرف سیاسی تنقید کی نیت سے جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ان کے خاندان کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ جس طرح چندرا بابو نائیڈو اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ہائی ٹیک سٹی، ایئرپورٹ اور او آر آر جیسے پراجکٹس کا خاکہ تیار کیا تھا، اسی طرح ہمیں بھی عالمی شہروں سے سیکھ کر ترقی کا راستہ چننا ہوگا۔ آخر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر عوام نے دس سال دیے تو وہ ایسا شہر بنائیں گے جو نیو یارک کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔