Read in English  
       
Adilabad rains

حیدرآباد: عادل آباد ضلع سابق میں ہفتہ کو شدید بارشوں نے نظام زندگی درہم برہم کردیا اور کئی دیہاتوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ مختلف منڈلوں میں نالے اور چھوٹے دریا ابل پڑے جس کے نتیجہ میں دور دراز علاقوں کے عوام تنہا ہوگئے۔

نصف شب سے صبح تک تلمادوگو، اچوڈا، اندرولی، جائناتھ، گدھی ہت نور، بازار ہت نور، بواتھ، اتنور، سری کونڈہ اور نیرڈی گونڈہ میں درمیانی سے بھاری Adilabad rainsریکارڈ کی گئی۔ اوٹنور میں ونکاتھما واگو اور سری کونڈہ میں چکمن واگو کے بہہ جانے سے سڑک رابطے بند ہوگئے۔ دیہاتی ضروری سامان اور طبی سہولتوں کے لئے منڈل صدر مقامات تک پہنچنے سے قاصر رہے اور انہوں نے حکام سے فوری امدادی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

منچیریال ضلع میں بھیمینی، کنی پلّی، ناسپور، ہاجی پور، بیلّم پلی، منڈا مری، بھیمارم، ڈنڈے پلی، لکسٹی پیٹ اور تانڈور میں 15 ملی میٹر سے 125 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ کنی پلّی میں سب سے زیادہ 125 ملی میٹر بارش ہوئی، اس کے بعد بھیمینی میں 94 ملی میٹر، نینال میں 88 ملی میٹر اور منچیریال منڈل میں 65 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

لکسٹی پیٹ کے ستیا سائی نگر میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جس کے باعث خاندان رات بھر بیدار رہے۔ منڈا مری میں ایک کالونی زیرآب آگئی، جبکہ منچیریال ٹاؤن کی ایل آئی سی کالونی، تیروملاگیری کالونی اور رام نگر کے کئی مکانات میں بھی پانی بھر گیا۔

کڈم، سورنا، گڈے نّا واگو، کومرم بھیم، متھاڑی واگو، ستھ نالا، گولا واگو اور رلا واگو سمیت مختلف آبپاشی پراجیکٹس میں بھاری مقدار میں پانی جمع ہوگیا۔ کڈم نرائن ریڈی پراجیکٹ میں 86,994 کیوسیکس پانی کی آمد ہوئی، جبکہ 1.56 لاکھ کیوسیکس پانی خارج کیا گیا۔ 18 میں سے 16 گیٹس کھول دیے گئے۔ عہدیداروں کے مطابق پانی کی سطح 693 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مکمل ذخیرے کی سطح 700 فٹ ہے۔

کسانوں نے عادل آباد ، منچیریال اور اطراف کے اضلاع میں کپاس، تور، سویا اور مونگ کی فصلوں کو نقصان کی اطلاع دی اور حکومت سے فصل نقصان کا سروے کرانے اور فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران علاقے کے موسمی آبشار تیز بہاؤ کے سبب مزید پرکشش ہوگئے اور بارش کے باوجود کئی افراد وہاں پہنچے۔