Read in English  
       
Universities Crisis

حیدرآباد: تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس پر بی جے پی نے ریاستی حکومت کو فوری اقدامات کا مشورہ دیا ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائس چانسلرس کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو یونیورسٹیوں کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

بی جے پی ریاستی دفتر میں منگل کے روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر قسم وینکٹیشورلو نے اسمبلی کے سرمائی اجلاس پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں حقیقی مسائل کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ اسی دوران وائس چانسلرس نے ایک متوازی اجلاس میں یونیورسٹیوں کی ابتر حالت پر تشویش ظاہر کی۔

اساتذہ کی کمی پر تشویش | Universities Crisis

ڈاکٹر وینکٹیشورلو نے کہا کہ سابق اور موجودہ دونوں حکومتوں نے تعلیمی شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی یونیورسٹیوں میں منظور شدہ 2,816 تدریسی اسامیوں میں سے صرف 755 پر تقرری ہوئی ہے، جس کے باعث تقریباً 75 فیصد عہدے خالی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری ڈگری کالجوں میں بھی 4,098 منظور شدہ عہدوں کے مقابلے میں صرف 1,255 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چھ یونیورسٹیوں میں ایک بھی پروفیسر موجود نہیں، جس سے تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

تحقیقی سرگرمیوں پر اثر | Universities Crisis

بی جے پی رہنما نے کہا کہ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث تحقیقی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق تحقیق کے بغیر یو جی سی فنڈز، اشاعتیں اور تعلیمی درجہ بندیاں ممکن نہیں رہتیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو صرف تدریسی ادارے نہیں بلکہ تحقیقی مراکز کے طور پر بھی فعال ہونا چاہیے۔

انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں تاخیر پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وائس چانسلرس کی حمایت کے باوجود اس پالیسی پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ مزید یہ کہ کانگریس کے انتخابی وعدے کے برخلاف تعلیم کے لیے 15 فیصد کے بجائے صرف 7.6 فیصد بجٹ مختص کیا گیا۔

بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلرس کی جانب سے اٹھائے گئے تمام مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور تعلیمی اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر ریاست کی یونیورسٹیاں مزید زوال کا شکار ہو سکتی ہیں۔