Read in English  
       
RERA Penalty

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کی رئیل اسٹیٹ نگرانی کرنے والی اتھارٹی نے حیدرآباد کے قریب ایک رہائشی منصوبے میں متعدد خلاف ورزیوں پر ایک تعمیراتی کمپنی پر مجموعی طور پر ₹4.74 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خریداروں سے غیر قانونی طور پر رقم جمع کرنے اور مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل نہ کرنے کے معاملے میں کی گئی۔

یہ کارروائی میڈچل-ملکاجگیری ضلع کے کومپلی علاقے میں واقع “بھارتی لیک ویو اپارٹمنٹس” منصوبے سے متعلق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے فروغ دینے والوں نے خریداروں سے پیشگی پیشکشوں کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کیا۔ تاہم منصوبہ طے شدہ وقت میں مکمل نہیں کیا گیا جس پر ریگولیٹری اتھارٹی نے سخت نوٹس لیا۔

مزید برآں تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی نے 2021 میں پری لانچ اسکیم کے ذریعے خریداروں سے رقم وصول کی۔ اس دوران منصوبے کے لیے رئیل اسٹیٹ قانون کے تحت لازمی رجسٹریشن حاصل نہیں کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہی خلاف ورزی اس کیس کا بنیادی سبب بنی۔

خریداروں کو واپسی کا حکم | RERA Penalty

ریگولیٹری اتھارٹی نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ خریداروں سے وصول کی گئی مکمل رقم واپس کرے۔ اس کے ساتھ تلنگانہ رئیل اسٹیٹ قواعد 2017 کے مطابق سود بھی ادا کرنا ہوگا۔

اتھارٹی نے واضح کیا کہ تمام رقم کی واپسی 60 دن کے اندر مکمل کی جائے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد متاثرہ خریداروں کے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

اسی دوران تحقیقات میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ایک اور ادارہ “سری بھارتی بلڈرز” بھی اس منصوبے میں فروغ دینے والے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ دونوں اداروں کو مشترکہ طور پر خریداروں کو ادائیگی کے لیے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

بلڈر کو ڈیفالٹر قرار | RERA Penalty

اتھارٹی نے قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی پر کمپنی کو باضابطہ طور پر “ڈیفالٹر پروموٹر” قرار دیا ہے۔ مزید برآں تازہ حکم میں ₹3.55 کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

یہ جرمانہ اس سے پہلے عائد کیے گئے ₹1.18 کروڑ کے جرمانے کے علاوہ ہے۔ اس طرح مجموعی جرمانہ بڑھ کر ₹4.74 کروڑ تک پہنچ گیا ہے جو ریاست میں رئیل اسٹیٹ ضابطوں کے نفاذ کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ منصوبوں کی پری لانچ اسکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ ان کے مطابق ایسے منصوبوں میں خریداروں کے تحفظ کے لیے کوئی باضابطہ نگرانی موجود نہیں ہوتی۔

مزید برآں اتھارٹی نے مشورہ دیا کہ سرمایہ کاری سے پہلے منصوبے کی رجسٹریشن سرکاری پورٹل پر لازماً جانچ لی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل سے خریدار ممکنہ مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں اور قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔