Read in English  
       
Traffic Rights

حیدرآباد: بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے شہریوں کے بینک کھاتوں سے ٹریفک چالان کی خودکار کٹوتی کی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ہفتہ کے روز جاری بیان میں شراون نے کہا کہ ٹریفک چالان محض الزام کی ایک اطلاع ہوتا ہے، کوئی ثابت شدہ جرم نہیں۔ ان کے مطابق خودکار کٹوتی کا نظام شہریوں سے یہ قانونی حق چھین لیتا ہے کہ وہ الزام کو چیلنج کریں یا اپنی وضاحت پیش کریں، جو ’’قصور ثابت ہونے تک بے گناہی‘‘ کے اصول کے خلاف ہے۔

آئین اور بینکاری قوانین کی خلاف ورزی | Traffic Rights

داسوجو شراون نے آئین کی دفعات 21 اور 300اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعات شہریوں کی زندگی، آزادی اور نجی ملکیت کا تحفظ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک کھاتے میں موجود رقم شہری کی نجی ملکیت ہے، جسے بغیر عدالتی حکم یا قانونی عمل کے ریاست ضبط نہیں کر سکتی۔

انہوں نے ریزرو بینک کے ضوابط اور بینکاری قوانین کی جانب بھی توجہ دلائی، جن کے تحت کسی بھی بینک کو صارف کی واضح اجازت یا عدالتی حکم کے بغیر رقم ڈیبٹ کرنے کی اجازت نہیں۔ چونکہ بینکاری یونین لسٹ کا موضوع ہے، اس لیے ان کے مطابق کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر ایسا نظام نافذ کرنے کی مجاز نہیں۔

رازداری اور قانونی حق پر خطرہ | Traffic Rights

شراون نے کہا کہ جرمانے کی وصولی کے لیے شہریوں کے مالیاتی ڈیٹا تک رسائی رازداری کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے سپریم کورٹ نے کے ایس پُتّوسوامی فیصلے میں بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موٹر وہیکلز ایکٹ کی دفعہ 200 شہریوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ یا تو چالان ادا کریں یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں، مگر مجوزہ خودکار نظام اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔

تجویز واپس لینے کا مطالبہ | Traffic Rights

اس تجویز کو ’’ریاستی جبر‘‘ قرار دیتے ہوئے داسوجو شراون نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک چالان کی خودکار کٹوتی کے منصوبے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں آئینی حدود، قانونی عمل اور شہری حقوق کا مکمل احترام کرے۔