Read in English  
       
Toll Waivers

حیدرآباد: بی آر ایس کے ایم ایل سی اور قانون ساز کونسل کے وہپ دیشاپتی سرینواس نے تلنگانہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنکرانتی کے موقع پر صرف چند مخصوص راستوں پر ٹول فیس میں چھوٹ دینا سیاسی محرکات پر مبنی اور امتیازی اقدام ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ریاست کے اپنے شہری نظر انداز ہو گئے ہیں۔

انہوں نے وزیر کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی کے اس خط پر بھی سوال اٹھایا جس میں مرکز سے تلنگانہ کی سرحد سے باہر آندھرا پردیش میں واقع چلکالو ٹول پلازہ پر ٹول وصولی روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔ سرینواس نے پوچھا کہ آیا اس فیصلے سے ہونے والے مالی نقصان کی بھرپائی تلنگانہ کا خزانہ کرے گا۔

رائل سیما راستے نظر انداز | Toll Waivers

دیشاپتی سرینواس نے کہا کہ آندھرا جانے والے مسافروں کے لیے سہولت فراہم کرنا قابلِ اعتراض نہیں، مگر حکومت نے تلنگانہ کے اضلاع کو جوڑنے والے راستوں پر اسی طرح کی رعایت کیوں نہیں دی۔ خاص طور پر رائل سیما کی سمت جانے والے راستوں کو نظر انداز کیے جانے پر انہوں نے سخت اعتراض کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ بتکماں اور دسہرہ جیسے تہواروں کے دوران مقامی مسافروں کو ٹول پلازوں پر شدید بھیڑ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کے مطابق تلنگانہ کے عوام بھی اپنے تہواروں پر اسی سہولت کے حقدار ہیں جو دیگر ریاستوں کے مسافروں کو دی جا رہی ہے۔

تمام تہواروں میں یکساں سہولت | Toll Waivers

ایم ایل سی نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں منعقد ہونے والے تمام مقامی تہواروں کے دوران ہر بڑے راستے پر ٹول فیس میں چھوٹ کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلیف سب کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ منتخب گروہوں کے لیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹ بینک سیاست کے لیے شہریوں میں تفریق نہ کی جائے اور ثقافتی تنوع کا احترام کیا جائے۔ دیشاپتی سرینواس کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے سے قطع نظر تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنائے۔