Read in English  
       
Telangana Rising

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے عالمی سرمایہ کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبے ’’تلنگانہ رائزنگ‘‘ میں شراکت کریں۔ یہ دعوت انہوں نے منگل کے روز عالمی اقتصادی فورم کے دوران انڈیا پویلین کے افتتاح کے موقع پر دی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک بھر میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا پالیسی پر مبنی اور کاروبار دوست ماحول سرمایہ کاروں کو پائیدار مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے معاشی تبدیلی کے عمل کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

وژن 2047 | Telangana Rising

وزیر صنعت نے اعلان کیا کہ تلنگانہ کا ہدف ہے کہ وہ 2047 تک بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 10 فیصد حصہ ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مستقبل کا انتظار کرنے کے بجائے اسے خود تعمیر کرنے پر یقین رکھتی ہے، اور یہی سوچ ریاست کی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقبل دوست حکمت عملی کے ذریعے تلنگانہ کی معیشت کو 2047 تک 3 ٹریلین امریکی ڈالر تک لے جانے کا تفصیلی روڈ میپ تیار کیا جا چکا ہے۔ یہ وژن دستاویز ماہرین، صنعت کے رہنماؤں اور عوامی آرا کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔

سرمایہ کاری اور نئی پالیسیاں | Telangana Rising

اس منصوبے کے تحت لائف سائنسز، دواسازی، بایوٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس، ایرو اسپیس، دفاع، ٹیکسٹائل، قابل تجدید توانائی اور گرین ٹیکنالوجی کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈی سریدھر بابو نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ریاست میں 2.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت اس رفتار کو برقرار رکھنے اور نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

عالمی سطح پر تلنگانہ کی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے وزیر صنعت نے اعلان کیا کہ لائف سائنسز پالیسی 2.0 اور تلنگانہ اے آئی انوویشن ہب کا باضابطہ آغاز بھی داؤس سے کیا گیا ہے۔