Read in English  
       
Telangana Global Summit

حیدرآباد: فیوچر سٹی میں آج سے شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس نے تلنگانہ کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ 44 سے زائد ممالک سے آئے مندوبین نے شرکت کی، جبکہ پولیس نے پورے مقام پر سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے۔ پہلے دن مختلف شعبوں کے ماہرین نے بارہ اہم موضوعات پر گفتگو کی، جو ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں اور آئندہ حکمتِ عملی سے متعلق تھے۔ حکام کے مطابق سنہ 2047 کا وژن دستاویز اجلاس کے دوسرے دن پیش کیا جائے گا۔

ریاستی حکومت نے اس اجلاس کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے مہمانوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کیں۔ تقریباً 2,000 شرکاء مقام پر پہنچے اور متعلقہ ٹیموں نے پورے دن معاون خدمات جاری رکھیں۔ رسمی استقبالیہ میں تلنگانہ کے پکوان بھی شامل تھے، جنہیں مہمانوں نے پسند کیا۔

اجلاس کی خصوصیات اور اہم تقاریر | Telangana Global Summit

فیوچر سٹی ماڈل پر مبنی خصوصی ویڈیو اور تلنگانہ کی ترقی پر تیار کیا گیا گیت مہمانوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ گورنر وشنو دیو ورما نے اجلاس کا افتتاح کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ تلی کے ڈیجیٹل مجسمے کی نقاب کشائی کی۔ مرکزی وزیر کشن ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا، اداکار ناگرجنا اور متعدد صنعتی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔

مقررین نے اس بات کی تعریف کی کہ حکومت نے عالمی کمپنیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے واضح معاشی سمت اختیار کی ہے، جو مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ چین کا صوبہ گوانگ ڈونگ ترقیاتی حکمتِ عملی میں الہام کا ذریعہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے Cure، Pure اور Rare کے نام سے تین ترقیاتی زونز وضع کیے ہیں۔ مزید برآں چین، جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا اور سنگاپور کو ترقی کے نمونوں کے طور پر پیش کیا گیا۔

معاشی وژن اور بین الاقوامی تعاون | Telangana Global Summit

وزیر اعلیٰ نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ سنہ 2047 تک 30 کھرب ڈالر کی معاشی منزل حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی اداروں کی شرکت سے ریاست کے بین الاقوامی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، جبکہ ٹیکنالوجی، صنعت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔

شرکاء نے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ اس اجلاس نے ریاست کی طویل مدتی حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایسے پروگرام نوجوانوں، صنعتوں اور پالیسی سازی کے عمل میں نئی توانائی پیدا کریں گے۔