Read in English  
       
Power Reforms

حیدرآباد: سال 2025 تلنگانہ کے پاور شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں شہریوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کی گئیں۔ تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف بجلی کی فراہمی بہتر ہوئی بلکہ بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

کمپنی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مشرف فاروقی نے بتایا کہ عوامی ضروریات کو براہ راست سمجھنے کے لیے فیلڈ سطح پر خصوصی مہمات شروع کی گئیں۔ ان اصلاحات کا مقصد شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی سے متعلق مسائل کا فوری حل فراہم کرنا تھا۔

عوامی رابطہ مہم | Power Reforms

نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کی رہنمائی میں اس سلسلے میں ’’کرنٹولا پرجا باٹا‘‘ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کے تحت محکمہ کے ملازمین ہر منگل، جمعرات اور ہفتہ کی صبح 8 بجے سے کالونیوں، بستیوں اور دیہات کا دورہ کرتے رہے۔ اس دوران صارفین سے براہ راست بات چیت کی گئی اور کئی مقامی مسائل کو اسی دن حل کر دیا گیا۔

محکمے نے اس مہم کے ذریعے تقریباً 1,800 خراب یا جھکے ہوئے بجلی کے کھمبے درست کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کی تنگ گلیوں میں موجود 800 کلومیٹر خطرناک اوور ہیڈ تاروں کو محفوظ اے بی کیبلز سے تبدیل کیا گیا، جس سے عوامی تحفظ اور بجلی کی سپلائی میں بہتری آئی۔

بنیادی ڈھانچے میں وسعت | Power Reforms

شہری علاقوں میں جگہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے پول ماونٹڈ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر سسٹم متعارف کرایا گیا۔ روایتی ٹرانسفارمرز کے برعکس، یہ نظام کم قطر کے کھمبوں پر نصب کیا جاتا ہے، جس سے تنگ آبادیوں میں حفاظت اور سہولت دونوں میں اضافہ ہوا۔

محکمے نے اب تک 304 پول ماونٹڈ ٹرانسفارمرز کی منظوری دی ہے، جن میں سے 150 پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ آئندہ ایک سال میں مزید 6,500 ٹرانسفارمرز نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ سال 2025 کے دوران 7,531 نئے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز اور 291 پاور ٹرانسفارمرز بھی نصب کیے گئے، جبکہ 97 نئے سب اسٹیشنز پر کام شروع کیا گیا جو رواں مالی سال کے اختتام تک مکمل ہوں گے۔

مشرف فاروقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انجینئرز اور فیلڈ اسٹاف پوری لگن کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ تلنگانہ بھر میں صارفین کو بلا رکاوٹ اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کی جا سکے۔