Read in English  
       
Political Controversy

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے کانگریس کے ایک پروگرام میں دیے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیان ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ رکن اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات عوامی ماحول میں کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بیان انہوں نے ہفتہ کے روز کونڈاگٹو مندر کے لیے شروع ہونے والی ایک یاترا کے موقع پر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے حالیہ سیاسی واقعے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

کانگریس پروگرام میں بیان کا معاملہ | Political Controversy

مرکزی وزیر نے حیدرآباد کے گاندھی بھون میں منعقدہ ایک تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کے دوران متنازعہ تبصرہ کیا گیا۔ یہ تقریب اس وقت منعقد ہوئی جب مناکندور کے رکن اسمبلی کو تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ایس سی سیل کے چیئرمین کے طور پر حلف دلایا جا رہا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تقریب میں موجود دیگر کانگریس رہنما بھی اس بیان کی تائید کرتے دکھائی دیے۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اس معاملے پر معذرت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ رکن اسمبلی کو پارٹی سے معطل کیا جانا چاہیے۔

سیاسی مطالبات اور ردعمل | Political Controversy

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ متعلقہ رکن اسمبلی کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کے بیانات پر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے سنگین سیاسی اور سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے رکن اسمبلی کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایسے بیانات کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور اس کا سیاسی مستقبل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب مرکزی وزیر نے کریم نگر سے کونڈاگٹو تک اپنی یاترا کا آغاز بھی کیا۔ اس یاترا میں حال ہی میں منتخب ہونے والے مقامی بلدیاتی نمائندے بھی ان کے ساتھ شریک ہوئے۔