Read in English  
       
Telangana migrant workers

حیدرآباد: مرکزی حکومت نے بتایا ہے کہ 45,000 سے زائد Telangana migrant workersاس وقت بیرون ملک کام کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف وزیر مملکت برائے امور خارجہ کرتی وردھن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کیا۔ یہ بیان مانسون سیشن کے دوران کھمم کے رکن پارلیمنٹ رامسہیم رگھو رام ریڈی کے سوال کے جواب میں آیا جنہوں نے ریاست وار اعداد و شمار اور بیرون ملک کارکنوں کے تحفظ کے اقدامات کی تفصیل طلب کی تھی۔

وزیر نے کہا کہ وزارت، ای-مائیگریٹ پورٹل کے ذریعے ان تمام بھارتی کارکنوں کا مکمل ڈیٹا جمع کرتی ہے جو امیگریشن چیک ریکوائرڈ (ای سی آر) پاسپورٹ رکھتے ہیں اور 18 مخصوص ممالک میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سال کے اعداد و شمار کے تحت ایسے ممالک میں بھارتی کارکنوں کی کل تعداد 16,06,964 ہے، جبکہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی تعداد 2020 میں 2,984 سے بڑھ کر 2025 میں 45,213 تک پہنچ گئی ہے۔

کارکنوں کے تحفظ کے حوالے سے کرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ سفارتخانے اور قونصل خانے تلنگانہ سمیت تمام ریاستوں کے تارکین وطن کی ہنگامی صورت حال میں مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے ای میل، ایمرجنسی فون لائنز، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کو رابطے کے ذرائع قرار دیا اور بتایا کہ دبئی، ریاض، جدہ اور کوالالمپور میں بھارتی امدادی مراکز قائم ہیں جو آجرین سے رابطے اور کام کی جگہوں کا معائنہ بھی کرتے ہیں۔

خواتین کارکنوں کے لیے وزیر نے وضاحت کی کہ صرف مجاز ریکروٹنگ ایجنسیاں ہی انہیں بیرون ملک ملازمت فراہم کر سکتی ہیں۔ مزید کہا کہ انڈین کمیونٹی ویلفیئر فنڈ (آئی سی ڈبلیو ایف) کے ذریعے مالی اور قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر پریشانی میں گھرے شہریوں کو وطن واپس لایا جاتا ہے۔