Read in English  
       
Nominations

حیدرآباد: تلنگانہ میں جمعرات کی شام بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی عمل کو اچانک روک دیا گیا۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب ہائی کورٹ نے بی سی ریزرویشن سے متعلق جی او نمبر 9 پر حکمِ امتناع جاری کیا، جس کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے پورا عمل معطل کر دیا۔

جمعرات کی صبح ضلع پریشد ٹیریٹوریل کنسٹیٹیونسی (ZPTC) اور منڈل پریشد ٹیریٹوریل کنسٹیٹیونسی (MPTC) انتخابات کے لیے نامزدگیوں کا آغاز ہوا تھا۔ چند ہی گھنٹوں میں امیدواروں نے زبردست دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور 16 زیڈ پی ٹی سی اور 103 ایم پی ٹی سی نامزدگیاں جمع کرائیں۔

اضلاع میں نامزدگیوں کی تفصیلات | Nominations

زیڈ پی ٹی سی میں سب سے زیادہ نامزدگیاں ضلع سدی پیٹ سے موصول ہوئیں جہاں سات امیدواروں نے کاغذات جمع کیے۔ راجنا سرسلہ میں دو، جبکہ نظام آباد، ورنگل، ہنمکنڈہ، کریم نگر، کومرم بھیِم آصف آباد، محبوب آباد اور سنگاریڈی سے ایک ایک نامزدگی دائر کی گئی۔

ایم پی ٹی سی کے لیے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع سب سے آگے رہا جہاں 17 امیدواروں نے کاغذات داخل کیے۔ یادادری بھونگیری میں 11، آصف آباد میں 9، اور نظام آباد و رنگا ریڈی میں 8 نامزدگیاں ہوئیں۔ کھمم، نارائن پیٹ، نرمل اور محبوب آباد میں پانچ پانچ امیدوار سامنے آئے۔

دیگر اضلاع جیسے ناگرکرنول، سدی پیٹ اور ونپرتی میں تین، جبکہ ورنگل، جگتیال، کاماریڈی، کریم نگر اور نلگنڈہ میں دو دو نامزدگیاں درج ہوئیں۔ عادل آباد، ہنمکنڈہ، جے شنکر بھوپال پلی، گدوال، محبوب نگر، منچریال، مُلُوگ، پیداپلی، راجنا سرسلہ، سنگاریڈی اور وقارآباد میں ایک ایک امیدوار نے کاغذات داخل کیے۔ میدک، جنگاؤں اور سوریا پیٹ میں کسی امیدوار نے نامزدگی جمع نہیں کرائی۔

عدالتی حکم کے بعد عمل روک دیا گیا | Nominations

ہائی کورٹ نے جمعرات کو دوپہر 2:30 بجے بی سی ریزرویشن سے متعلق درخواستوں پر سماعت شروع کی اور شام 4:30 بجے جی او 9 پر عبوری حکمِ امتناع جاری کیا۔ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کو نامزدگی عمل فوری طور پر روکنا پڑا۔

فیصلے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور ایڈوکیٹ جنرل سدھارشن ریڈی سے مشورے کے بعد اعلان کردہ شیڈول معطل کر دیا۔

جمع شدہ نامزدگیاں برقرار رہیں گی | Nominations

انتخابی عہدیداروں کے مطابق معطلی سے قبل جمع کرائی گئی تمام نامزدگیاں برقرار رہیں گی۔ البتہ اگر آئندہ ریزرویشن زمرے تبدیل کیے گئے تو متعلقہ امیدواروں کو ان کی ڈپازٹ رقم واپس کر دی جائے گی۔

تلنگانہ کے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ انتخابی شیڈول پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ صاف ہونے کے بعد ہی نئی تاریخوں کا اعلان ممکن ہوگا۔