Read in English  
       
Land Allegations

حیدرآباد: بی آر ایس رہنما ہریش راؤ نے وزیر سریدھر بابو کا شکریہ ادا کرنے کے بعد تلنگانہ میں مبینہ زمین اسکینڈل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کے حالیہ بیان سے کے ٹی آر کے الزام کی بالواسطہ توثیق ہوتی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سریدھر بابو کو کھلے مباحثے کا چیلنج بھی دے دیا تاکہ زمین کے اعداد و شمار پر براہِ راست بات ہوسکے۔

ہریش راؤ کا الزام تھا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی 9,298 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 5 لاکھ کروڑ روپئے بتائی جاتی ہے، صرف 4,000 تا 5,000 کروڑ میں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق بچ جانے والی خطیر رقم ہی مبینہ بدعنوانی کی اصل تصویر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سریدھر بابو نے زمین کی مقدار غلط طور پر 4,740 ایکڑ بتائی، جس کا وہ کھلے فورم میں جواب دیں گے۔

ہریش راؤ کا مؤقف مزید سخت | Land Allegations

ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ صنعتی پلاٹس کی فائلیں ایک ہفتے میں صاف کریں اور خریدار 45 دن میں ادائیگی کریں۔ ان کے مطابق یہ ٹائم لائن دو مہینوں کے اندر پوری فروخت مکمل کرنے کے ارادے کی نشاندہی کرتی ہے، جسے وہ 5 لاکھ کروڑ روپئے کا ممکنہ اسکینڈل قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مختلف علاقوں میں زمین کی قیمتوں کا تقابلی چارٹ بھی پیش کیا۔ مالاپور میں 240 ایکڑ کے لیے ٹی جی آئی آئی سی ویلیو 36,827 روپئے فی مربع گز جبکہ ایس آر او ریٹ 17,581 تھا۔ اوپّل میں 447 ایکڑ کی قیمت ٹی جی آئی آئی سی کے تحت 52,523 جبکہ ایس آر او کے مطابق 21,886 تھی۔ گاندھی نگر میں ٹی جی آئی آئی سی ویلیو 46,895 اور ایس آر او ریٹ 14,591 بتایا گیا۔ حیات نگر میں بھی ایس آر او ریٹ انہی کم اعداد میں رہا، جبکہ سرکاری ویلیو کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق دانستہ طور پر کم ریٹ پر فروخت کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔

پالیسی کے پس منظر اور الزامات | Land Allegations

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی صنعتی ترقی نہیں بلکہ “ریونت ریڈی فیملی ٹرانسفارمیشن پلان” ہے، جس کے تحت وزیر اعلیٰ کے بھائیوں کے زمین پر قبضے کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پالیسی کے اعلان سے چھ ماہ پہلے ہی ایسے معاملات شروع ہوچکے تھے۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت 30 فیصد ٹیکس اور اضافی آر آر ٹیکس بھی لیا جا رہا ہے۔

ہریش راؤ نے واضح کیا کہ مقدمات یا دباؤ اپوزیشن کو خاموش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی آر ایس اس معاملے کو ایوان میں لے کر جائے گی اور اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق عوامی مفاد میں پوری پالیسی کا باریکی سے جائزہ ضروری ہے۔

سیاسی ماحول میں نئی ہلچل | Land Allegations

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ الزامات آنے والے دنوں میں ریاستی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں، کیونکہ زمین کے بڑے معاملات ہمیشہ حساسیت رکھتے ہیں۔ مختلف حلقوں میں اس تنازعے پر بحث تیز ہوگئی ہے اور ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اعداد و شمار کا براہِ راست تقابل اور کھلے مباحثے کا چیلنج اس مسئلے کو مزید سنجیدہ بنا دے گا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حکومت اگلے مرحلے میں کیا قدم اٹھاتی ہے اور آیا خصوصی اجلاس کی منظوری دی جائے گی یا نہیں۔