Read in English  
       
Innovation Drive

حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرمارکا نے کہا ہے کہ تلنگانہ جدت اور اختراع کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات بھارت فیوچر سٹی میں جاری گلوبل سمٹ کے دوسرے دن سرمائے اور پیداواری صلاحیت پر منعقدہ اجلاس کے دوران کہی۔ بھٹی کے مطابق ریاست نے ترقی کے لیے Pure، Cure اور Rare کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسان کاروباری ماحول اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ پر توجہ نے ریاست کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

اس سے قبل ایک نیوز چینل سے گفتگو میں بھٹی نے بتایا کہ حکومت نے سمٹ کو واضح اہداف کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ ان کے مطابق مختلف شعبوں میں معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض گروہ اور جماعتیں حکومت کے وژن کو قبول کرنے میں مشکلات محسوس کر رہی ہیں، اسی لیے منفی ردِعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کا بہاؤ ہمیشہ ایک جاری عمل ہوتا ہے اور دیرپا ترقی مستقل اور سنجیدہ مشغولیت کا تقاضا کرتی ہے۔

سرمایہ کاری معاہدوں میں اضافے کے ساتھ تعاون کی اپیل | Innovation Drive

ڈپٹی وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت کا مقصد نئی سرمایہ کاری کو عملی مرحلے تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے گزشتہ روز دو لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کے معاہدے کیے، جبکہ آج مزید تقریباً دو لاکھ کروڑ کے معاہدے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو مسلسل تنقید کے بجائے ریاستی مفاد کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔

بھٹی نے کہا کہ ترقی کے لیے اتحاد اور باہمی تعاون ناگزیر ہے، جبکہ منفی رویہ اجتماعی کوششوں کی رفتار کم کر دیتا ہے، خصوصاً ایسے عالمی پروگرام کے دوران جس کی وسعت غیر معمولی ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی ترقی سب کے اشتراک سے ہی ممکن ہے اور ہر طبقے کو اس عمل میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

ریاستی وژن اور عالمی مسابقت کی سمت | Innovation Drive

حکام کے مطابق تلنگانہ کے ترقیاتی اقدامات نہ صرف داخلی سطح پر تبدیلی لا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ریاست کی پہچان کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، جدید تحقیق اور سرمایہ کاری کے پائیدار ماڈلز مستقبل کی پیش رفت میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

ڈپٹی وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ریاست کا جامع وژن نئے شعبوں کی رہنمائی کرے گا اور نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سمٹ جیسے پلیٹ فارم تلنگانہ کو بین الاقوامی صنعتوں کے ساتھ بہتر روابط فراہم کرتے ہیں اور یہی روابط ریاست کے معاشی مستقبل کو تقویت دیتے ہیں۔