Read in English  
       
Telangana HRC

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے قرار دیا ہے کہ طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو زیر التواء فیس ری ایمبرسمنٹ کے بہانے روکنا آئین کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

Telangana HRCکے چیئرمین جسٹس شمیم اختر نے جمعرات کو کیس نمبر 4775/2025 کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں پہلے جاری شدہ احکامات (کیس نمبر 3772/2025 ونگلا شروتی) اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ہدایات کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ حق تعلیم میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق سلطان العلوم کالج آف فارمیسی کے 17 بی فارمیسی طلبہ کو ان کے اصل ٹرانسفر اور اسٹڈی سرٹیفکیٹس اس وجہ سے نہیں دیے گئے کہ حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی باقی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ کالج کا یہ عمل غیر قانونی ہے اور طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

کمیشن نے احکامات دیے کہ تمام روکے گئے سرٹیفکیٹس فوری طور پر طلبہ کے حوالے کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی حیدرآباد کلکٹر کو ہدایت دی گئی کہ وہ کالج انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرے، کیونکہ انہوں نے طلبہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

عہدیداروں نے وضاحت کی کہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ آئینی تحفظات اور ریگولیٹری اصولوں پر عمل کریں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر کی بنیاد پر طلبہ کو ہرگز سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ معاملہ ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔