Read in English  
       
Telangana Government Loans

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس قیادت والی تلنگانہ حکومت نے صرف 20 ماہ میں ریاست پر 2.17 لاکھ کروڑ روپئے کے قرضوں کا بوجھ ڈال دیا ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔

بی آر ایس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نہ تو کالیشورم آبپاشی جیسے بڑے منصوبے شروع کیے گئے اور نہ ہی سکریٹریٹ یا کلکٹریٹ عمارتوں جیسے اہم عوامی تعمیراتی کام کیے گئے۔ حتیٰ کہ دلت بندھو یا بکریوں کی تقسیم جیسی فلاحی اسکیمیں بھی متعارف نہیں کرائی گئیں۔

پارٹی کے مطابق، یہ اعداد و شمار کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور ریزرو بینک آف انڈیا کے ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔ بی آر ایس نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 سے مارچ 2025 تک کے پہلے 15 ماہ میں حکومت نے 1.66 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض لیا۔ مالی سال 2025-26 میں اب تک ایف آر بی ایم قوانین کے تحت 31,900 کروڑ روپئے اور اس دائرے سے باہر کارپوریشنز کے ذریعے مزید 18,900 کروڑ روپئے حاصل کیے گئے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ 610 دنوں میں کانگریس حکومت نے اوسطاً روزانہ 355.73 کروڑ روپئے یعنی ہر گھنٹے میں تقریباً 15 کروڑ روپئے کا قرض لیا۔ بی آر ایس رہنماؤں نے کہا کہ انتخابات سے قبل کانگریس نے پچھلی حکومت کے قرضوں پر تنقید کی تھی، مگر اب دو سال سے بھی کم عرصے میں اس سے زیادہ قرض لے لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق 11 اگست 2025 تک چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت والی حکومت کے کل قرضے، ایف آر بی ایم اور غیر ایف آر بی ایم دونوں زمرے ملا کر، 2.17 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گئے، جبکہ انتخابی مہم میں کیے گئے چھ اہم وعدے اور دیگر 420 وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔