Read in English  
       
AI Hub

حیدرآباد: تلنگانہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے، جہاں دنیا کا پہلا گلوبل اے آئی پروونگ گراؤنڈ 20 جنوری 2026 کو ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈاووس میں متعارف کرایا جائے گا۔ تلنگانہ اے آئی انوویشن ہب کے آغاز کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نفاذ اور اشتراک میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ادارہ ایک خود مختار پلیٹ فارم کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد تلنگانہ کو انٹرپرائز سطح کی جدید ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ یہاں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور چِپ ڈیزائن جیسے ابھرتے شعبوں میں براہ راست تجربات اور توسیع کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ نے بھارت کے ٹیکنالوجی مرکز سے آگے بڑھ کر دنیا کے اختراعی دارالحکومت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ان کے مطابق ڈاووس میں ریاست سرمایہ نہیں بلکہ عالمی اشتراک کی پیشکش کر رہی ہے۔

ادارہ جاتی جدت کا نیا ماڈل | AI Hub

روایتی انکیوبیٹرز کے برعکس، یہ نیا ادارہ ٹیلنٹ، انفراسٹرکچر، ڈیٹا، اسٹارٹ اپس، تحقیق اور سرمایہ کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت محدود تجرباتی منصوبوں کے بجائے بڑے پیمانے پر عملی نفاذ ممکن بنایا جائے گا۔

آئی ٹی اور صنعتوں کے وزیر ڈی سری دھر بابو نے کہا کہ یہ محض ایک ٹیک مرکز نہیں بلکہ تیز رفتار اور عالمی اثر رکھنے والا انوویشن سینڈ باکس ہے۔

آئی ٹی ای اینڈ سی کے خصوصی چیف سیکریٹری سنجے کمار کے مطابق یہ پلیٹ فارم اسٹارٹ اپس کی تیزی، ادارہ جاتی طاقت اور سرکاری اعتماد کو ایک جگہ سموئے گا، جس سے حقیقی دنیا کے حل بڑے پیمانے پر نافذ ہو سکیں گے۔

عالمی اسٹریٹجی اور مستقبل کا وژن | AI Hub

ادارے کی حکمت عملی چار ستونوں پر مبنی ہے، جن میں ٹیلنٹ فاؤنڈری، انوویشن انجن، کیپیٹل فلائی وہیل اور امپیکٹ لیبز شامل ہیں۔ اس ڈھانچے کے ذریعے مکمل انوویشن اور نفاذ کا ماحولیاتی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔

ادارے کے چیف ایگزیکٹو پھنی ناگرجن نے کہا کہ یہ وقت نہایت اہم ہے، کیونکہ دنیا مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور خودکار نظاموں کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام تلنگانہ کو دنیا کے سرفہرست 20 انوویشن مراکز میں شامل کر دے گا۔

اس پلیٹ فارم کا افتتاح ڈاووس کے ماؤنٹین پلازا ہوٹل میں شام 7:00 سے 8:30 بجے کے درمیان ہوگا، جہاں عالمی پالیسی ساز، ٹیک ماہرین اور صنعت کے سرکردہ قائدین شرکت کریں گے۔