Read in English  
       
Flood Losses

حیدرآباد: تلنگانہ میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے ریاست کو زبردست مالی اور جانی Flood Lossesپہنچایا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کو ہونے والا نقصان 1,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ شعبے پنچایت راج، روڈز اینڈ بلڈنگز (R&B)، زراعت، بجلی، آبپاشی اور خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود ہیں۔

فصلوں کو بھاری نقصان

زراعت کے محکمے کی ابتدائی سروے رپورٹ کے مطابق 270 منڈلوں کے 2,463 گاؤں متاثر ہوئے۔ مجموعی طور پر 2,20,443 ایکڑ زمین پر کاشت متاثر ہوئی، جس سے 1,43,304 کسان براہ راست متاثر ہوئے۔

* دھان (Paddy) سب سے زیادہ متاثر ہوئی، 1,09,626 ایکڑ پر نقصان۔

* کپاس (Cotton) 60,000 ایکڑ سے زائد پر برباد۔

* مکئی (Maize) 16,000 ایکڑ سے زائد متاثر۔

* سویابین 21,000 ایکڑ پر متاثر۔

* ہارٹیکلچر 639 ایکڑ پر متاثر۔

* دالیں 7,000 ایکڑ پر نقصان، جن میں 6,000 ایکڑ مٹی کے تودوں تلے دب گئی۔

فی ایکڑ 10,000 روپے معاوضہ کی پالیسی کے مطابق کسانوں کا نقصان تقریباً 220 کروڑ روپے کے قریب ہوگا۔

ڈھانچوں کو نقصان اور بجلی کی فراہمی متاثر

* R&B ڈپارٹمنٹ نے نقصان کا تخمینہ 560 کروڑ روپے لگایا ہے۔

* پنچایت راج انفراسٹرکچر کو 374 کروڑ کا نقصان پہنچا۔

* سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، آنگن واڑی مراکز اور سرکاری دفاتر متاثر ہوئے۔

* کئی اضلاع میں سڑکوں پر شگاف پڑنے سے آمد و رفت متاثر ہوئی۔

* بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، کھمبے اور ٹرانسفارمر بہہ گئے، 33 کے وی لائنیں ٹوٹ گئیں۔ بیشتر علاقوں میں بجلی بحال ہو چکی ہے لیکن کچھ گاؤں اب بھی اندھیرے میں ہیں۔

متاثرہ اضلاع اور بحالی کے اخراجات

شدید متاثرہ اضلاع میں کاماریڈی، میدک، نظام آباد، نرمَل، عادل آباد ، مُلُوگو، منچریال، آصف آباد اور راجنا سرسیلا شامل ہیں۔

R&B ڈپارٹمنٹ کے مطابق مستقل بحالی کے لیے 560 کروڑ روپے درکار ہوں گے، جب کہ عارضی مرمت کے لیے 53 کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔ سروے میں 873 کلومیٹر سڑکوں پر 784 مقامات پر نقصان اور 39 مقامات پر شگاف رپورٹ ہوئے ہیں۔

اضلاع وار نقصان (R&B اندازہ)

* عادل آباد : 30 کروڑ

* نظام آباد: 17 کروڑ

* کاماریڈی: 16 کروڑ

* کریم نگر: 12 کروڑ

* کھمم: 38 کروڑ

* بھدرادری کوتہ گوڑم: 60 کروڑ

* سنگاریڈی: 51 کروڑ

* میدک: 41 کروڑ

* نارائن پیٹ: 22 کروڑ

* گدوال: 30 کروڑ

* ونپرتھی: 26 کروڑ

* ناگرکرنول: 33 کروڑ

آئندہ اقدامات

سرکاری محکمے اپنی ابتدائی رپورٹس ہفتہ کو کابینہ اجلاس میں پیش کریں گے۔ توقع ہے کہ ریاستی حکومت ایک جامع رپورٹ تیار کرکے مرکزی حکومت سے امداد طلب کرے گی۔