Read in English  
       
Budget Session

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں بجٹ اجلاس کا باقاعدہ آغاز گورنر شیو پرتاپ شکلا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان ایک مشترکہ نشست میں شریک ہوئے۔ گورنر کے خطاب میں ریاست کی ترقیاتی حکمت عملی اور فلاحی منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔

گورنر کی آمد پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، اسپیکر گڈم پرساد کمار اور کونسل کے چیئرمین گٹہ سکھندر ریڈی نے ان کا استقبال کیا۔ اس تقریب میں وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ اس طرح اجلاس کا آغاز رسمی استقبالیہ تقریب کے بعد کیا گیا۔

ایوان میں داخل ہونے سے قبل گورنر نے اسمبلی احاطے میں تلنگانہ تلی کے مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں قومی ترانے کے ساتھ اجلاس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع ہوئی۔

گورنر نے اپنے خطاب کا آغاز تلگو زبان میں کرتے ہوئے تلنگانہ کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا مقصد جامع ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ مزید برآں ان کے مطابق ریاست کی ترقی میں ہر شہری کو شراکت دار بنایا جائے گا۔

ترقی اور معاشی اہداف | Budget Session

گورنر نے کہا کہ ریاست “2047 تلنگانہ رائزنگ” کے ہدف کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی مجموعی پیداوار میں ریاست کا حصہ 4.99 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ کاروباری سہولتوں میں اصلاحات سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیں گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ صنعتی سرگرمیوں کو آؤٹر رنگ روڈ کے باہر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اسی طرح موسیٰ دریا کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 45 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔

ترقی اور فلاحی منصوبوں کا خاکہ | Budget Session

گورنر کے مطابق حکومت نے وژن 2047 کے تحت 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت حاصل کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی فی کس آمدنی ₹4.18 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ مزید یہ کہ شہری ترقی کے لیے سی یو آر ای ماڈل پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہری آبادی 2031 تک 53.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو 3 کارپوریشنز میں تقسیم کیا گیا جبکہ میٹروپولیٹن ریجن کو 4 کمشنریٹس میں منظم کیا گیا ہے۔

گورنر نے بتایا کہ ہائیڈرا کے ذریعے 1045 ایکڑ سرکاری اراضی کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تقریباً ₹60,000 کروڑ مالیت کے اثاثوں کی حفاظت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کونڈنگل جلد ایک صنعتی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ مزید برآں بایو ایشیا سمٹ کے ذریعے ₹1700 کروڑ کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست برآمدات کے لحاظ سے ساتویں مقام پر ہے جہاں برآمدات ₹1.61 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکی ہیں۔

گورنر کے مطابق خدمات کے شعبے نے ریاستی مجموعی ویلیو ایڈڈ میں 68.6 فیصد حصہ ڈالا ہے۔ اسی دوران حیدرآباد عالمی ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے جہاں 20 فیصد عالمی صلاحیتی مراکز قائم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات ₹3.13 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکی ہیں۔ مزید یہ کہ اس شعبے میں 9.39 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔

 فیوچر سٹی سے بندر بندرگاہ تک گرین ایکسپریس وے بنانے کا منصوبہ | Budget Session

زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آر اے آر ای ماڈل اختیار کیا ہے۔ اس کے تحت رعیتو بھروسہ اسکیم کے ذریعے ₹8,744 کروڑ جاری کیے گئے جبکہ قرض معافی پر ₹20,616 کروڑ خرچ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 15.12 لاکھ نئے راشن کارڈ جاری کیے۔ اسی طرح 3.38 کروڑ مستحق افراد کو باریک چاول فراہم کیے گئے۔ مزید برآں 4.5 لاکھ اندراما مکانات تعمیر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منریگا کے تحت 6.52 کروڑ ورک ڈیز فراہم کیے گئے۔ اسی طرح مہالکشمی اسکیم کے ذریعے خواتین کے لیے 269 کروڑ مفت بس سفر ممکن بنائے گئے۔

گورنر نے بتایا کہ فیوچر سٹی سے بندر بندرگاہ تک گرین ایکسپریس وے بنانے کا منصوبہ ہے۔ مزید یہ کہ شمش آباد کو بلیٹ ٹرین کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ عادل آباد اور ورنگل میں نئے ہوائی اڈے قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ریاست عالمی ترقیاتی مرکز کے طور پر ابھرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسیوں کا مقصد معاشی ترقی کے ساتھ عوامی فلاح کو بھی یقینی بنانا ہے۔