Read in English  
       
BC Champion

حیدرآباد: تلنگانہ میں پسماندہ طبقات (بی سی) کی سیاست انتخابی موسم میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جہاں کانگریس، بی جے پی، بی آر ایس اور تلنگانہ جاگروتی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے کھلی سیاسی جنگ میں مصروف ہیں، سب کا مقصد ہے BC Championکہلانا۔

کانگریس پارٹی ’کاماریڈی ڈیکلریشن‘ پر تکیہ کر رہی ہے، جس میں ذات پر مبنی مردم شماری اور بی سی طبقات کے لیے 42 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کے بعد حکومت نے ایک آرڈیننس بھی منظور کیا اور دونوں کو مرکز کو روانہ کیا، لیکن دہلی کی خاموشی کے بعد اب کانگریس تین روزہ احتجاجی مہم کے لیے تیار ہے۔

5 اگست کو پارلیمنٹ میں التوا کی تحریک پیش کی جائے گی، 6 اگست کو جنتر منتر پر مظاہرہ ہوگا، اور 7 اگست کو صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کی جائے گی۔ کانگریس کا پیغام صاف ہے: اگر دہلی میں بی سی تحفظات رُک جاتے ہیں، تو اس کی گونج حیدرآباد سے سنی جائے گی۔

ادھر، تلنگانہ جاگروتی کی قائد کے کویتا نے بھی اسی دن سے 72 گھنٹوں کا احتجاج شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی حمایت میں نیا پوسٹر کیمپین بھی تیار کیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کویتا کی حکمت عملی واضح ہے: عوامی بیانیہ پر سب سے پہلے قبضہ۔

بی جے پی نے اپنی الگ پوزیشن اختیار کی ہے۔ ریاستی صدر این رامچندر راؤ نے 42 فیصد تحفظات کو “قانونی طور پر ناممکن” قرار دیا، سپریم کورٹ کی 50 فیصد حد کا حوالہ دیتے ہوئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بی سی فہرست سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا اور کانگریس پر “خیالی خواب” بیچنے کا الزام لگایا، لیکن ساتھ ہی بی سی طبقات کے حقوق کے حوالے سے بی جے پی کو سب سے “واضح نیت” رکھنے والی جماعت بھی قرار دیا۔

بی آر ایس، جو اب تک بی سی مسئلہ سے فاصلے پر تھی، اچانک متحرک ہو گئی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ 8 اگست کو کریم نگر میں “بی سی شنکھاراوَم” ریلی منعقد کی جائے گی۔ سابق وزراء کے ٹی راما راؤ، ٹی ہریش راؤ اور سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کے فارم ہاؤس میں ایک اہم میٹنگ بھی ہوئی، جس میں بی سی طبقات کی حمایت حاصل کرنے اور کوٹہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

چند گھنٹوں بعد بی آر ایس کے بی سی لیڈروں نے پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے ریلی کی تاریخ کی توثیق کی اور اعلان کیا کہ وہ بھی صدر جمہوریہ سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “عوامی تحریک کے ذریعے مرکز پر دباؤ ڈالا جائے گا۔”

دوسری طرف، کانگریس کے بی سی لیڈران چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی دہلی سے خالی ہاتھ واپس نہ آئیں، بلکہ 42 فیصد تحفظات کے وعدے کو کچھ عملی شکل دیں۔

اب جبکہ تمام بڑی پارٹیاں بی سی طبقات کے لیے احتجاج، اعلانات اور علامتی تقریبات کا سہارا لے رہی ہیں، بی سی چمپئن بننے کی جنگ تلنگانہ کے آئندہ مقامی انتخابات کا سب سے اہم سیاسی محاذ بن چکی ہے۔