Read in English  
       
Telangana

حیدرآباد: Telanganaکے وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی و انڈسٹریز دوڈیلا سریدھر بابو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ حکومت 2027 تک مصنوعی ذہانت پر مبنی شہری خدمات ایک کروڑ افراد تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اولین ترجیح ایک ایسا عوامی خدماتی ماڈل تشکیل دینا ہے جو پیشگی، مؤثر اور ٹکنالوجی پر مبنی ہو۔

وزیر موصوف جوبلی ہلز کے ڈاکٹر ایم سی آر ایچ آر ڈی انسٹی ٹیوٹ میں تین روزہ آفیسرز ٹریننگ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کا عنوان “مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل تبدیلی – چیمپئنز اینڈ کیٹالسٹس پروگرام” تھا جسے محکمہ آئی ٹی کے ایمرجنگ ٹکنالوجیز ونگ نے منعقد کیا۔

سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت “AI-first” ماڈل پر عمل پیرا ہے جو عوامی ضروریات کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ شہری خدمات عوام تک اس سے پہلے پہنچیں کہ وہ خود درخواست کریں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ 5 بلین ڈالر کی مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے جو ہزاروں روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔

اس مقصد کے لئے ریاست بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہے، جس میں “AI City”، “AI University” اور “Telangana AI Innovation Hub” شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ یہ تینوں ادارے عالمی معیار کے مطابق قائم کئے جا رہے ہیں۔

مزید برآں تلنگانہ نے “Telangana Data Exchange (TGDeX)” متعارف کرایا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک منفرد نظام ہے اور اب دیگر ریاستیں بھی اسے بطور ماڈل اپنا رہی ہیں۔ اسی کامیابی کی بنیاد پر حکومت آئندہ 20 محکموں میں 300 سے زیادہ AI پر مبنی خدمات شروع کرے گی۔

اس تبدیلی کی حمایت کے لئے حکومت نے 250 عہدیداروں کا انتخاب کیا ہے جنہیں مصنوعی ذہانت کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔ آئندہ تین ماہ کے دوران ماہرین ان عہدیداروں کی رہنمائی کریں گے تاکہ نئی ٹکنالوجیز کو حکمرانی میں شامل کیا جا سکے۔

چیف سکریٹری کے رام کرشنا راؤ، اسپیشل چیف سکریٹری سنجے کمار، اور ڈپٹی سکریٹری بھویش مشرا کے علاوہ کئی سینئر عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔