Read in English  
       
Agriculture Allocation

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے 2026-27 کے بجٹ میں زراعت کے لیے 23,179 کروڑ روپے اور آبپاشی کے لیے 22,615 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام ریاست کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مزید برآں اس کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور آبپاشی کے نظام کو وسعت دینا ہے۔

پس منظر میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ریاست زرعی پیداوار کے لحاظ سے ملک کی نمایاں ریاستوں میں شامل ہو چکی ہے۔ تاہم اس کامیابی کے پیچھے مسلسل پالیسی حمایت اور آبپاشی کے منصوبوں کی توسیع شامل ہے۔ اسی دوران حکومت نے کسانوں کو معیشت کا بنیادی ستون قرار دیا۔

رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ایکڑ فی سیزن 6,000 روپے دیے گئے، جو سالانہ 12,000 روپے بنتے ہیں۔ مزید یہ کہ باریک چاول پر 500 روپے فی کوئنٹل ترغیب دی گئی، جس سے کسان فی ایکڑ فی سیزن 12,500 روپے اضافی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح سالانہ آمدنی 25,000 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔

ریاست میں دھان کی پیداوار بھی نمایاں رہی، جہاں کاشت کا رقبہ 1 کروڑ ایکڑ سے تجاوز کر گیا اور پیداوار 284 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ مزید برآں تلنگانہ نے عالمی منڈیوں میں چاول کی برآمدات بھی کیں، جو اس کی زرعی صلاحیت کا مظہر ہے۔

آبپاشی اور فصلوں کی تنوع | Agriculture Allocation

زراعت کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ حکومت نے زیر التوا منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی اور موجودہ نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ مزید یہ کہ لفٹ آبپاشی اور آبی ذخائر کے منصوبے مختلف علاقوں میں شروع کیے گئے۔

اسی دوران آبی ذخائر کی صفائی اور گاد نکالنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تاکہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بحال کیا جا سکے۔ حکومت نے کہا کہ وہ قومی رہنما اصولوں کے مطابق ان منصوبوں کو مکمل کرے گی۔ اس سے پانی کی دستیابی اور تقسیم میں بہتری آئے گی۔

کسان فلاح اور خوراکی تحفظ | Agriculture Allocation

فصلوں کی تنوع بھی حکومت کی ترجیح رہی، جس کے تحت آم، مرچ اور ہلدی جیسی باغبانی فصلوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں آئل پام اور مائیکرو آبپاشی نظام کو بھی وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔

قبائلی علاقوں میں اندرا سورا گیری جلا وکوسم اسکیم کے تحت 2 لاکھ سے زائد کسانوں کو مکمل سبسڈی پر سولر پمپ فراہم کیے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ جنگلاتی فصلوں کی کاشت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔

خوراکی تحفظ کے لیے عوامی تقسیم نظام کے تحت 3 کروڑ سے زائد افراد کو باریک چاول فراہم کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ نئے راشن کارڈ جاری کر کے اس دائرے کو مزید وسیع کیا گیا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بجٹ زراعت، آبپاشی اور کسانوں کی فلاح کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرتا ہے۔ تاہم ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد ہی اس کے حقیقی نتائج کا تعین کرے گا۔