Read in English  
       
RTC Buses stopped

حیدرآباد: تلنگانہ میں ہفتے کے روز پسماندہ طبقات کے لیے منصفانہ ریزرویشن کے مطالبے پر بی سی بند سے نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوگیا۔ حیدرآباد سمیت کئی اضلاع میں بس سروسز بند رہیں، دکانیں بند ہو گئیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریاست بھر میں آر ٹی سی سروسز معطل | RTC Buses stopped

دیوالی ویک اینڈ سے قبل بند کے اثرات ریاست بھر میں محسوس کیے گئے۔ آر ٹی سی بسیں ڈپوؤں سے باہر نہیں نکل سکیں کیونکہ مظاہرین نے اپل اور چینگی چرلا میں راستے روک دیے۔ جوبلی بس اسٹیشن اور مہاتما گاندھی بس اسٹیشن پر بھی مظاہرے ہوئے جہاں احتجاجی انسانی زنجیر بنا کر بی سیز کے لیے 42 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کرتے رہے۔

حیدرآباد کے ساتھ ساتھ ورنگل، محبوب نگر، نظام آباد اور وقارآباد میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ بی سی تنظیموں اور کارکنوں نے آر ٹی سی ڈپوؤں پر دھرنے دیے اور بسوں کی آمدورفت روک دی۔ اس کے نتیجے میں بین الاضلاعی اور مقامی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر ٹھپ ہوگیا۔

شہریوں کو شدید مشکلات | RTC Buses stopped

شہری علاقوں میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ صبح سویرے سے ہی مسافر بس اسٹاپس پر انتظار کرتے رہے مگر پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھا۔ نجی کیب اور آٹو ڈرائیوروں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا جس سے عوام کی پریشانی دوگنی ہوگئی۔

دفاتر جانے والے ملازمین اور طلبہ کو اپنے مقامات تک پہنچنے میں دشواری پیش آئی۔ میٹرو اسٹیشنز اور ٹیکسی اسٹینڈز پر طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ اسپتالوں اور ہنگامی سروسز کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا۔

بی سی ایکیا ویدیکا کی قیادت میں احتجاج | RTC Buses stopped

بی سی ایکیا ویدیکا نے بند کی قیادت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی اداروں میں 42 فیصد بی سی ریزرویشن فوری نافذ کرے۔ تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی، تحریک جاری رہے گی۔

انہوں نے کانگریس، بی آر ایس اور بائیں بازو جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بند کی حمایت کی۔ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بس ڈپوؤں اور احتجاجی مقامات پر اضافی نفری تعینات کی، تاہم دن بھر اکّادکّاکسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔