Read in English  
       
Religious Protection

حیدرآباد: مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ اور شہر کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے علماء کرام و مشائخ عظام کے ایک وفد نے تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شیودھر ریڈی سے ملاقات کی۔ وفد نے 15 جنوری کو پرانا پل دروازے کے قریب واقع چھلہ حضرت محبوب سبحانی اور دیگر مزارات پر پیش آئے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

علماء و مشائخ نے کہا کہ اس طرح کی جنونی حرکتیں حیدرآباد کی صدیوں پرانی ہم آہنگی اور امن و امان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور فوری قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

وفد نے تمام عبادت گاہوں، بالخصوص 400 سالہ درگاہ حضرت موسیٰ قادری کے مکمل تحفظ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کا تحفظ نہ صرف مذہبی فریضہ ہے بلکہ سماجی اتحاد اور قانون کی حکمرانی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی پیشکش | Religious Protection

ملاقات کے دوران علماء و مشائخ نے باہمی احترام، امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بین المذاہب اشتراک و تعاون کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ اور تعاون ہی ایسے واقعات کا مؤثر جواب ہے۔

وفد نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ریاستی قیادت قانون کی حکمرانی اور سماجی اتحاد کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی نہ صرف انصاف کا تقاضا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔

وفد میں شامل اہم شخصیات | Religious Protection

اس وفد میں متعدد ممتاز علماء و مشائخ شامل تھے، جن میں مولانا سید محمود بادشاہ قادری زرین کلاہ، مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی قادری وقار پاشاہ، مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری، مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ، مولانا سید آل مصطفی قادری الموسوی علی پاشاہ، مولانا سید سیف اللہ حسینی قادری الباقری سیف پاشاہ، مولانا قاضی سید شاہ نورالاصفیا روحی اعظمی، مولانا ڈاکٹر خواجہ شاہ محمد شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ، مولانا محمد فرید الدین زاہد، مولانا محمد محی الدین احمد حسامی، مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری اور مولانا سید واصف عالم قادری الموسوی شامل تھے۔